نیز ظلم ، بغاوت اور سرکشی کر کے زمین میں فساد نہ کر، بے شک الله تعالیٰ فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔(1)
خوش ہونے اور خوشی منانے سے متعلق 3شرعی احکام:
آیت نمبر76میں قارون کے اترانے یعنی فخر وتکبر کے طور پر خوش ہونے کا ذکر ہوا،اس مناسبت سے یہاں خوش ہونے اور خوشی منانے سے متعلق 3شرعی احکام ملاحظہ ہوں :
(1)… شیخی کی خوشی یعنی اترانا حرام ہے،لیکن شکر کی خوشی عبادت ہے، جیساکہ الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: الله کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے ۔
(2)…جرم کرکے خوش ہونا حرام ہے جبکہ عبادت کرکے خوش ہونا بہتر ہے۔
(3)… ناجائز طریقے سے خوشی منانا حرام ہے جیسے خوشی سے ناچنا شروع کر دیناجبکہ جائز طور سے خوشی منانا اچھا ہے جیسے خوشی میں صدقہ کرنا وغیرہ۔
تکبر میں مبتلا ہونے کا ایک سبب:
اسی آیت سے معلوم ہو اکہ مال و دولت کی کثرت فخر ،غرور اور تکبر میں مبتلا ہونے کاایک سبب ہے۔امام محمد غزالی رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ تکبر کے اسباب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’تکبر کا پانچواں سبب مال ہے اور یہ بادشاہوں کے درمیان ان کے خزانوں اور تاجروں کے درمیان ان کے سامان کے سلسلے میں ہوتا ہے، اسی طرح دیہاتیوں میں زمین اور آرائش والوں میں لباس اور سواری میں ہوتا ہے۔ مالدار آدمی، فقیر کو حقیر سمجھتا اور اس پر تکبر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تو مسکین اور فقیر ہے، اگر میں چاہوں تو تیرے جیسے لوگو ں کو خریدلوں ، میں تو تم سے اچھے لوگوں سے خدمت لیتا ہوں ، تو کون ہے؟ اور تیرے ساتھ کیا ہے؟ میرے گھر کا سامان تیرے تمام مال سے بڑھ کر ہے اور میں تو ایک دن میں اتنا خرچ کردیتا ہوں جتنا تو سال بھر میں نہیں کھاتا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۷۶-۷۷، ص۸۷۹، ابو سعود، تحت الآیۃ: ۷۶-۷۷، ۴/۲۴۴-۲۴۵، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۷۶-۷۷، ۳/۴۴۰، ملتقطاً۔
2…یونس:۵۸۔