Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
319 - 608
مکہ سے فرمایا گیا تھا کہ تمہیں  جو چیز دی گئی ہے وہ صرف دُنْیَوی زندگی کا سامان اور ا س کی زینت ہے اور اب یہاں  سے بیان فرمایا جا رہا ہے کہ قارون کو بھی دُنْیَوی زندگی کا سامان دیا گیا اور اُس نے اِس پر غرور کیا تو وہ بھی فرعون کی طرح عذاب سے نہ بچ سکاتو اے مشرکو!تم قارون اور فرعون سے زیادہ مال اور تعداد نہیں  رکھتے اور فرعون کو ا س کے لشکر و مال نے عذاب سے بچنے میں  کوئی فائدہ نہ دیا اسی طرح قارون کو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے رشتہ داری اور ا س کے کثیر خزانوں  نے کوئی نفع نہ دیا تو تم کس چیز کے بھروسے پر رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جھٹلا رہے اور ان پر ایمان لانے سے منہ موڑرہے ہو۔یاد رکھو!اگر تم بھی اپنی رَوِش سے باز نہ آئے تو تمہارا انجام بھی فرعون ا ور قارون سے مختلف نہ ہو گا۔(1)
قارون کا مختصر تعارف ، ا س کے خزانوں  کا حال اور ا س کی رَوِش:
	یہاں  اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کی مناسبت سے قارون کامختصر تعارف ،اس کے خزانوں  کا حال اور اس کی روش ملاحظہ ہو،چنانچہ مفسرین فرماتے ہیں  کہ قارون حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے چچا یصہر کا بیٹا تھا۔ انتہائی خوب صورت اور حسین شکل کا آدمی تھا ،اسی لئے اسے مُنَوَّر کہتے تھے۔ بنی اسرائیل میں  توریت کا سب سے بہتر قاری تھا۔ ناداری کے زمانے میں  نہایت عاجزی کرنے والا اوربااخلاق تھا۔دولت ہاتھ آتے ہی اس کا حال تبدیل ہوا اور یہ بھی سامری کی طرح منافق ہوگیا۔کہا گیا ہے کہ فرعون نے اسے بنی اسرائیل پر حاکم بنا دیا تھا ۔ الله تعالیٰ نے اسے اتنے خزانے دئیے تھے کہ ان کی چابیاں اُٹھانا ایک طاقتور جماعت پر بھاری پڑتاتھا اور یہ لوگ خزانوں  کی وزنی چابیاں  اٹھا کر تھک جایا کرتے تھے ۔جب قارون سوار ہو کر نکلتا توکئی خچروں  پر اس کے خزانوں  کی چابیاں  لادی جاتی تھیں ۔جب اس سے بنی اسرائیل کے مومن حضرات نے کہا:اے قارون!تم اپنے مال کی کثرت پر اِترا ؤنہیں ، بیشک الله تعالیٰ اِترانے والوں  کو پسندنہیں  کرتااور الله تعالیٰ نے تجھے جو مال دیا ہے اس کے ذریعے تو الله تعالیٰ کی نعمتوں  کا شکر کر کے اور مال کو خدا کی راہ میں  خرچ کر کے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھول بلکہ دنیا میں  آخرت کے لئے عمل کر تاکہ تو عذاب سے نجات پائے کیونکہ دنیا میں  انسان کا حقیقی حصہ یہ ہے کہ وہ صدقہ اور صلہ رحمی وغیرہ کے ذریعے آخرت کے لئے عمل کرے اور تو الله تعالیٰ کے بندوں  کے ساتھ اسی طرح احسان کر جیسا الله تعالیٰ نے تجھ پر احسان کیا اور گناہوں  کا اِرتکاب کر کے،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیر قرطبی، القصص، تحت الآیۃ: ۷۶، ۷/۲۳۲، الجزء الثالث عشر، ملتقطاً۔