{وَ اِذَا رَاَوْكَ: اور جب آپ کو دیکھتے ہیں ۔} ارشاد فرمایاکہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جن مشرکین کے سامنے آپ نے سابقہ قوموں کے واقعات بیان فرمائے ہیں ، یہ جب آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کو ٹھٹھا مذاق بنالیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا یہ وہ شخص ہے جسے اللہ تعالٰی نے اپنی مخلوق میں سے ہماری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے؟(1)
{اِنْ كَادَ: قریب تھا۔} اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ وہ مشرکین مزید یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اپنے ان معبودوں پر ڈٹے نہ رہتے اور ان کی عبادت پر ثابت قدم نہ رہتے تو قریب تھا یہ نبی ہمیں ہمارے معبودوں سے بہکادیتے۔(2)
اس سے معلوم ہوا کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دعوت اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اظہارِ معجزات نے کفار پر اتنا اثر کیا تھا اور دین ِحق کو اس قدر واضح کردیا تھا کہ خود کفار کو اقرار ہے کہ اگر وہ اپنی ہٹ دھرمی پر جمے نہ رہتے تو قریب تھا کہ بت پرستی چھوڑ دیں اور دین ِاسلام اختیار کریں ۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ دین ِاسلام کی حقانیت اُن پر خوب واضح ہوچکی تھی اور شکوک و شُبہات مٹا ڈالے گئے تھے لیکن وہ اپنی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے ایمان قبول کرنے سے محروم رہے۔(3)
{وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ: اور عنقریب یہ جان لیں گے۔} ارشاد فرمایا کہ عنقریب جب یہ لوگ آخرت کاعذاب دیکھیں گے تو اس وقت جان لیں گے کہ کون گمراہ تھا۔یہ کفار کی اس بات کا جواب ہے جو انہوں نے کہی تھی کہ قریب ہے کہ یہ ہمیں ہمارے خداؤں سے بہکادیں ۔ یہاں بتایا گیا کہ بہکے ہوئے تم خود ہو اورآخرت میں یہ تمہیں خود ہی معلوم ہوجائے گا اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف تم نے جو بہکانے کی نسبت کی ہے وہ محض بے جا ہے۔(4)
اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُؕ-اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ(۴۳)
ترجمۂکنزالایمان: کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنے جی کی خواہش کو اپنا خدا بنالیا تو کیا تم اس کی نگہبانی کا ذمہ لو گے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرطبری، الفرقان، تحت الآیۃ: ۴۱، ۹/۳۹۲۔
2…تفسیرطبری، الفرقان، تحت الآیۃ: ۴۲، ۹/۳۹۳۔
3…مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۴۲، ص۸۰۴۔
4…مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۴۲، ص۸۰۴۔