کے دن ہر امت میں سے ایک گواہ نکال کر لائے گا جو کہ اس امت کے رسول ہوں گے اور وہ اپنی اپنی اُمتوں پراس بات کی گواہی دیں گے کہ انہوں نے ان لوگوں تک الله تعالیٰ کے پیغام پہنچائے اور انہیں نصیحتیں کیں ۔ پھر الله تعالیٰ ہر امت سے ارشاد فرمائے گا: دنیا میں شرک اور رسولوں کی مخالفت کرناجو تمہارا شیوہ تھا، اس کے صحیح ہونے پر تمہارے پاس جو دلیل ہے وہ پیش کرو۔ تواس دن وہ جان لیں گے کہ اِلٰہ اور معبود ہونے کا حق صرف الله تعالیٰ ہی کیلئے ہے اور اس میں الله تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ،اوردنیا میں جو وہ الله تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرا کر اور ان شریکوں کو اپنی شفاعت کرنے والا بتا کر جھوٹی باتیں بناتے تھے ،ان کی یہ سب باتیں ضائع ہو جائیں گی۔(1)
اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ۪-وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِۗ-اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ(۷۶)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک قارون موسیٰ کی قوم سے تھا پھر اس نے ان پر زیادتی کی اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دئیے جن کی کنجیاں ایک زور آور جماعت پر بھاری تھیں جب اس سے اس کی قوم نے کہا اِترا نہیں بیشک الله اِترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک قارون موسیٰ کی قوم سے تھا پھر اس نے قوم پر زیادتی کی اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دئیے جن کی کنجیاں (اُٹھانا) ایک طاقتور جماعت پر بھاری تھیں ۔ جب اس سے اس کی قوم نے کہا:اِترا ؤنہیں ، بیشک الله اِترانے والوں کو پسندنہیں کرتا۔
{اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى: بیشک قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا۔} اس سے پہلے آیت نمبر60میں کفارِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۷۵، ص۸۷۹، جلالین، القصص، تحت الآیۃ: ۷۵، ص۳۳۳، ملتقطاً۔