Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
316 - 608
{قُلْ اَرَءَیْتُمْ: تم فرماؤ: بھلا دیکھو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ مکہ والوں  سے یہ بھی فرما دیں : تم مجھے یہ بتاؤ کہ اگر الله تعالیٰ سورج کوآسمان کے درمیان روک کر قیامت تک ہمیشہ دن ہی رکھے اور رات ہونے ہی نہ دے تو الله تعالیٰ کے سوا اورکون معبود ہے جو یہ قدرت رکھتا ہو کہ وہ تمہارے پاس رات لے آئے جس میں  تم آرام کرسکو اور دن میں  جو کام اور محنت کی تھی اس کی تھکن دور کرسکو ۔ تو کیا تم دیکھتے نہیں کہ تم کتنی بڑی غلطی میں  ہو جو اس کے ساتھ دوسروں  کو شریک کرتے ہو اور تمہیں  چاہئے کہ اپنی اس غلطی کا احساس کر کے ا س سے باز آجاؤ۔(1)
وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۷۳)
ترجمۂکنزالایمان:  اور اس نے اپنی مہر سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے کہ رات میں  آرام کرو اور دن میں  اس کا فضل ڈھونڈو اور اس لیے کہ تم حق مانو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے کہ رات میں  آرام کرو اور( دن میں ) اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم (اس کا) شکر ادا کرو۔
{وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ: اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے۔} ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! الله تعالیٰ نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم رات میں  آرام کرو، اپنے بدنوں  کو راحت پہنچاؤ اور دن بھر کی محنت و مشقت سے ہونے والی تھکن دور کرو اور دن میں  روزی تلاش کرو جو کہ الله تعالیٰ کا فضل ہے اورتم اپنی معاشی و کاروباری سرگرمیاں  انجام دو اور تم پر یہ رحمت فرمانے کی حکمت یہ کہ تم اس کی وجہ سے اپنے اوپر الله تعالیٰ کا حق مانو،اس کی وحدانیّت کا اقرار کرو اورصرف اسی کی عبادت کر کے اس کی نعمتوں  کا شکر بجا لاؤ ۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، القصص، تحت الآیۃ: ۷۲، ص۳۳۳، روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۷۲، ۶/۴۲۷، ملتقطاً۔
2…تفسیرطبری، القصص، تحت الآیۃ: ۷۳، ۱۰/۹۸۔