Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
313 - 608
وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(۶۸) 
ترجمۂکنزالایمان: اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاہے اور پسند فرماتا ہے ان کا کچھ اختیار نہیں  پاکی اور برتری ہے الله کو اُن کے شرک سے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور (جو چاہتا ہے) پسند کرتاہے ۔ان (مشرکوں ) کا کچھ اختیار نہیں  ۔ الله ان کے شرک سے پاک اور بلندوبالا ہے۔
{وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ: اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے۔} شانِ نزول: یہ آیت ان مشرکین کے جواب میں  نازل ہوئی جنہوں  نے کہا تھا کہ الله تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نبوت کے لئے کیوں  منتخب فرمایا ہے اور یہ قرآن مکہ اور طائف کے کسی بڑے شخص پر کیوں  نہ اُتارا؟یہ کلام کرنے والا ولید بن مغیرہ تھا اور بڑے آدمی سے وہ اپنے آپ کو اور عروہ بن مسعود ثقفی کو مراد لیتا تھا۔ اس کے جواب میں  یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ رسولوں  کا بھیجنا ان لوگوں  کے اختیار سے نہیں  بلکہ الله تعالیٰ کی مرضی سے ہے، اپنی حکمت وہی جانتا ہے انہیں  اُس کی مرضی میں  دخل دینے کی کیا مجال ہے۔(1)
وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ(۶۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور تمہارا رب جانتا ہے جو ان کے سینوں  میں  چھپا ہے اور جو ظاہر کرتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہارا رب جانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں ۔
{وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ: اور تمہارا رب جانتا ہے۔} ارشاد فرمایاکہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کا رب ان کے کفر اوران کی آپ سے عداوت کو جانتا ہے جسے یہ لوگ اپنے سینوں  میں  چھپائے ہوئے ہیں  اور ان کی وہ باتیں  بھی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۶۸، ۶/۴۲۳، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۶۸، ۳/۴۳۹، ملتقطاً۔