ہوں یا مَتبوع ، کافر ہوں یا کافر گَر ۔ (1)
ایک دوسری روایت میں ہے جو کہ حضرت عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے منقول ہے کہ کوئی آدمی نہیں ہوگامگر الله تعالیٰ قیامت کے دن اس سے تنہائی میں بات کرے گا (یعنی بندہ لوگوں سے جدا ہوگا)۔ الله عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گااے ابنِ آدم !کس چیز نے تجھے مجھ سے دھوکے میں ڈالا؟ اے ابنِ آدم!تونے رسولوں کوکیاجواب دیا؟اے ابنِ آدم! تونے اپنے علم پرکیا عمل کیا؟(2)
فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ(۶۷)
ترجمۂکنزالایمان: تو وہ جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا قریب ہے کہ وہ راہ یاب ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو وہ جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا تو قریب ہے کہ وہ کامیاب ہونے والوں میں سے ہوگا۔
{فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ: تو وہ جس نے توبہ کی اور ایمان لایا۔} اس سے پہلی آیات میں عذاب پانے والے کفار کا حال بیان ہوا اور اب یہاں سے کفار کو دنیا میں توبہ کی ترغیب دی جا رہی ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا جس شخص نے دنیا میں شرک سے توبہ کرلی اور الله تعالیٰ پر اور جو کچھ اس کی طرف سے نازل ہواہے اس پرایمان لے آیااوراس نے نیک کام کیے تو قریب ہے کہ وہ کامیاب ہونے والوں میں سے ہوگا۔(3)
وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُؕ-مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُؕ-سُبْحٰنَ اللّٰهِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، القصص،تحت الآیۃ:۶۵-۶۶، ۳/۴۳۸، روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۵۶-۶۶، ۶/۴۲۱-۴۲۲، ملتقطاً۔
2…حلیۃ الاولیائ، ذکر الصحابۃ من المہاجرین، عبد اللّٰہ بن مسعود، ۱/۱۸۰، الحدیث: ۴۱۲۔
3…تفسیرکبیر، القصص، تحت الآیۃ: ۶۷، ۹/۱۰، مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۶۷، ص۸۷۷، ملتقطاً۔