Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
311 - 608
اور یہ عذاب دیکھیں  گے۔ کیا اچھا ہوتا اگر یہ ہدایت حاصل کرلیتے۔
{وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ: اور ان سے فرمایا جائے گا: اپنے شریکوں  کو پکارو تو وہ اِنہیں  پکاریں  گے۔} یعنی بتوں  کے پجاریوں  سے فرمایا جائے گا:ان بتوں  کو پکارو، جنہیں  تم الله تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے تھے تاکہ وہ تمہیں  جہنم کے عذاب سے بچائیں ۔چنانچہ وہ ان بتوں  کو پکاریں  گے لیکن وہ انہیں  جواب نہ دیں  گے اور یہ پجاری عذاب دیکھیں  گے۔ اس پر الله تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ لوگ دنیا میں  گمراہ ہونے کی بجائے ہدایت حاصل کرلیتے تاکہ آخرت میں  عذاب نہ دیکھتے ۔(1)
وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ(۶۵)فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَىٕذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ(۶۶) 
ترجمۂکنزالایمان: اور جس دن انہیں  ندا کرے گا تو فرمائے گا تم نے رسولوں  کو کیا جواب دیا۔ تو اس دن ان پر خبریں  اندھی ہوجائیں  گی تو وہ کچھ پوچھ گچھ نہ کریں  گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جس دن ( الله) انہیں  ندافرمائے گا تو فرمائے گا: (اے لوگو!) تم نے رسولوں  کو کیا جواب دیا تھا؟ تو اس دن ان پر خبریں  اندھی ہوجائیں  گی تو وہ ایک دوسرے سے نہیں  پوچھیں  گے۔
{وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ: اور جس دن انہیں  ندافرمائے گا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن الله تعالیٰ کفار کو ڈانٹتے ہوئے فرمائے گا: ’’تم نے ان رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کیا جواب دیا تھاجو تمہاری طرف بھیجے گئے تھے اورتمہیں  حق کی دعوت دیتے تھے ؟تو اس دن کفار کو کچھ یاد نہ رہے گا کہ انہوں  نے کیا جواب دیا تھا اور کوئی عذر اور حجت انہیں  نظر نہ آئے گی تو وہ ایک دوسرے سے نہیں  پوچھیں  گے اور انتہائی دہشت کی وجہ سے ساکت رہ جائیں  گے یا کوئی کسی سے اس لئے نہ پوچھے گا کہ جواب سے عاجز ہونے میں  سب کے سب برابر ہیں  خواہ وہ تابع
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۶۴، ص۸۷۷، روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۶۴، ۶/۴۲۱، ملتقطاً۔