وہ لوگ جن پر قول ثابت ہوچکا ہے وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! یہی ہیں وہ جنہیں ہم نے گمراہ کیا۔ ہم نے انہیں ایسے ہی گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے تھے۔ ہم(ان سے) بیزار ہوکر تیری طرف رجوع لاتے ہیں ، یہ ہماری عبادت نہ کرتے تھے۔
{وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ: اور یاد کروجس دن انہیں ندا کرے گا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن الله تعالیٰ مشرکوں کو ڈانٹتے ہوئے ندا کرے گا اور ان سے فرمائے گا’’وہ کہاں ہیں جنہیں تم دنیا میں میرا شریک سمجھتے تھے۔ یہ ندا سن کرعام کفار کی بجائے گمراہوں کے سردار اور کفر کے پیشوا جن پر جہنم کا عذاب واجب ہوچکا ہے، کہیں گے : اے ہمارے رب! یہی ہماری پیروی کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے شرک کی طرف بلا کر گمراہ کیا۔ ہم نے انہیں گمراہ کیا تو یہ اسی طرح گمراہ ہو گئے جیسے ہم خود گمراہ ہوئے تھے ۔اس سے ان کی مراد یہ ہوگی کہ جیسے ہم اپنے اختیار سے گمراہ ہوئے اسی طرح یہ بھی اپنے ہی اختیار سے گمراہ ہوئے کیونکہ ہم نے تو صرف انہیں بہکایا تھا گمراہی پر مجبور نہیں کیا تھااس لئے ہماری اور ان کی گمراہی میں کوئی فرق نہیں ۔ ہم ان سے اور جس کفر کو انہوں نے اختیار کیا اس سے بیزار ہوکر تیری طرف رجوع لاتے ہیں ، یہ ہماری عبادت نہ کرتے تھے بلکہ یہ اپنی خواہشوں کے پَرستار اور اپنی شہوات کے اطاعت گزار تھے۔(1)
وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَۚ-لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ(۶۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور ان سے فرمایا جائے گا اپنے شریکوں کو پکارو تو وہ پکاریں گے تو وہ ان کی نہ سنیں گے اور دیکھیں گے عذاب کیا اچھا ہوتا اگر وہ راہ پاتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان سے فرمایا جائے گا: اپنے شریکوں کو پکارو تو وہ اِنہیں پکاریں گے تو وہ اُنہیں جواب نہ دیں گے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، القصص،تحت الآیۃ:۶۲-۶۳،ص۸۷۶-۸۷۷، روح البیان، القصص،تحت الآیۃ:۶۲-۶۳، ۶/۴۲۱، ملتقطاً۔