وعدے کو پانے والا بھی ہے ،کیا وہ اس شخص جیسا ہے جسے ہم نے صرف دُنْیَوی زندگی کا سازوسامان فائدہ اٹھانے کو دیا ہو اور یہ ساز و سامان عنقریب زائل ہوجانے والا ہو، پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کرکے حاضر کئے جانے والوں میں سے ہو!یہ دونوں ہرگز برابر نہیں ہو سکتے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ جسے اچھا وعدہ دیا گیا اس سے مراد مومن ہے اور دوسرے شخص سے کافر مراد ہے۔(1)
دنیا کا طلبگار اور آخرت کا خواہش مند برابر نہیں :
اس سے معلوم ہواکہ جو شخص صرف دنیا کا طلبگار اور آخرت سے بے پرواہ ہے وہ ا س شخص جیسا نہیں جودنیا کی زندگی اور ا س کے عیش و عشرت پر قناعت کرنے کی بجائے آخرت کی اچھی زندگی کا خواہش مند اور وہاں کی عظیم الشّان دائمی نعمتیں حاصل کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیا کا وہ عیش و عشرت جس کے بعد بندہ عذاب میں مبتلا ہو جائے، کسی طرح بھی اس قابل نہیں کہ اسے آخرت پر ترجیح دی جائے اور نہ ہی کوئی عقل مند انسان ایسا کر سکتا ہے۔
وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ(۶۲)قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَاۚ-اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَاۚ-تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ٘-مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ(۶۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور جس دن انہیں ندا کرے گا تو فرمائے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جنہیں تم گمان کرتے تھے۔ کہیں گے وہ جن پر بات ثابت ہوچکی اے ہمارے رب یہ ہیں وہ جنہیں ہم نے گمراہ کیا ہم نے انہیں گمراہ کیا جیسے خود گمراہ ہوئے تھے ہم ان سے بیزار ہوکر تیری طرف رجوع لاتے ہیں وہ ہم کو نہ پوجتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یاد کروجس دن( الله) انہیں ندا کرے گا تو فرمائے گا: کہاں ہیں میرے وہ شریک جنہیں تم سمجھتے تھے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۶۱، ۶/۴۲۰، جلالین، القصص، تحت الآیۃ: ۶۱، ص۳۳۲، ملتقطاً۔