Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
30 - 608
عبرت حاصل کرتے اور ایمان لاتے۔
	اِس آیت میں  جس بستی پر پتھروں  کی بارش ہونے کا ذکر ہوا اس سے مراد ’’سدوم ‘‘ نامی بستی ہے جو کہ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی پانچ بستیوں  میں  سب سے بڑی بستی تھی۔ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی بستیوں  کے بارے میں  مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ پانچوں  بستیوں  کو ہلاک کر دیاگیا اور ایک قول یہ ہے کہ ان بستیوں  میں  سب سے چھوٹی بستی کے لوگ تو اس خبیث بدکاری کے عامل نہ تھے جس میں  باقی چار بستیوں  کے لوگ مبتلا تھے، اس لئے انہوں  نے تونجات پائی جبکہ بقیہ چار بستیاں  اپنی بدعملی کے باعث آسمان سے پتھر برسا کر ہلاک کردی گئیں ۔ حقیقت میں  چار یا پانچ بستیاں  ہلاک ہوئیں  لیکن یہاں  صرف ایک کا ذکر اس لئے ہے کہ کفارِ مکہ کا تجارتی سفروں  کے درمیان جس بستی سے گزر ہوتا تھا وہ یہی تھی۔ 
وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًاؕ-اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا(۴۱)اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَاؕ-وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا(۴۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب تمہیں  دیکھتے ہیں  تو تمہیں  نہیں  ٹھہراتے مگر ٹھٹھا کیا یہ ہیں  جن کو اللہ نے رسول بناکر بھیجا۔ قریب تھا کہ یہ ہمیں  ہمارے خداؤں  سے بہکادیں  اگر ہم ان پر صبر نہ کرتے اور اب جانا چاہتے ہیں  جس دن عذاب دیکھیں  گے کہ کون گمراہ تھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب آپ کو دیکھتے ہیں  تو آپ کو ٹھٹھا مذاق بنالیتے ہیں  (اور کہتے ہیں  کہ) کیا یہ وہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟ (اور کہتے ہیں  کہ) قریب تھا کہ اگر ہم اپنے معبودوں پر ڈٹے نہ رہتے تو یہ (رسول) ہمیں  ہمارے معبودوں  سے بہکا دیتے اور (اللہ فرماتا ہے کہ) عنقریب یہ جان لیں  گے جب عذاب دیکھیں  گے کہ کون گمراہ تھا؟