Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
308 - 608
نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ‘‘(1)
کے ذریعے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کر جیسا الله نے تجھ پر احسان کیا اور زمینمیں  فساد نہ کر، بے شک الله فسادیوں  کو پسند نہیں  کرتا۔
	افسوس!فی زمانہ مسلمانوں  کی اکثریت بھی دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے کی بے عقلی اور نادانی کا شکار ہے اور ان میں  سے بعض کا حال یہ ہوچکا ہے کہ دنیا کا ما ل حاصل کرنے کیلئے لوگوں  کو دھمکیاں  دینے ،انہیں  اغوا کر کے تاوانوں  کا مطالبہ کرنے ،اسلحے کے زور پر مال چھیننے حتّٰی کے مال حاصل کرنے کی خاطر لوگوں  کو جان تک سے مار دینے میں  لگے ہوئے ہیں ، الغرض دنیا کا مال اوراس کا عیش و عشرت حاصل کرنا ان کی اَوّلین ترجیح بنا ہوا ہے اور اس کے لئے وہ ہر سطح پر جانے کو تیار ہیں  اور اپنی آخرت سے متعلق انہیں  ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں ۔ الله تعالیٰ انہیں  ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے، اٰمین۔
اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ(۶۱)
ترجمۂکنزالایمان: تو کیا وہ جسے ہم نے اچھا وعدہ دیا تو وہ اس سے ملے گا اس جیسا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کا برتاؤ برتنے دیا پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کرکے حاضر لایا جائے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہوا ہے پھر وہ اس (وعدے) سے ملنے والا (بھی) ہے کیا وہ اس شخص جیسا ہے جسے ہم نے (صرف) دنیوی زندگی کا سازوسامان فائدہ اٹھانے کو دیا ہو پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کرکے حاضر کئے جانے والوں  میں  سے ہو۔
{اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا: تو وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہوا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! تم اس بات پر غور کرو کہ وہ شخص جس سے ہم نے ا س کے ایمان اور طاعت پر جنت کے ثواب کا اچھا وعدہ کیا ہوا ہے، پھر وہ اس 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…قصص۷۷۔