Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
300 - 608
دیدیتا ہے اور وہ ہدایت والوں  کوخوب جانتا ہے۔
{اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ: بیشک ایسا نہیں  ہے کہ تم جسے چاہو اسے اپنی طرف سے ہدایت دیدو۔} مفسرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے بارے میں  نازل ہوئی ۔صحیح مسلم میں  حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے اس آیت کا شانِ نزول یوں  مذکور ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے چچا (ابو طالب) سے اس کی موت کے وقت فرمایا: اے چچا! ’’لَآ اِلٰـہَ اِلاَّاللہ‘‘ کہو، میں  تمہارے لئے قیامت کے دن گواہ ہوں  گا۔ اس نے (صاف انکار کر دیا اور) کہا:اگر مجھے قریش کی طرف سے عیب لگائے جانے کا اندیشہ نہ ہوتا (کہ موت کی سختی سے گھبرا کر مسلمان ہو گیا ہے) تو میں  ضرور ایمان لا کر تمہاری آنکھ ٹھنڈی کرتا ۔اس پر الله تعالیٰ نے یہ آیت ِکریمہ نازل فرمائی۔(1) اور ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنے چچا کے ایمان نہ لانے کا غم نہ کریں ،آپ اپنا تبلیغ کا فریضہ ادا کرچکے، ہدایت دینا اور دل میں  ایمان کا نور پیدا کرنا یہ آپ کا فعل نہیں  بلکہ الله تعالیٰ کے اختیار میں  ہے اور اسے خوب معلوم ہے کہ کسے یہ دولت دے گا اور کسے اس سے محروم رکھے گا۔(2)
ابو طالب کے ایمان سے متعلق اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ کی تحقیق:
	 اعلیٰ حضرت ،مُجَدِّدِ دین وملت شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ابو طالب کے ایمان سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں  ارشاد فرماتے ہیں :اس میں  شک نہیں  کہ ابو طالب تمام عمر حضور سیّد المرسَلین ،سیّد الاَوّلین والآخِرین، سیّد الاَبرار صَلَّی الله تَعَالٰیعَلَیْہِوَعَلٰی اٰلِہٖ وَسَلَّمَ اِلٰی یَوْمِ الْقرار کی حفظ و حمایت وکفالت و نصرت میں  مصروف رہے۔ اپنی اولاد سے زیادہ حضور کو عزیز رکھا اور اس وقت میں  ساتھ دیا کہ ایک عالَم حضور کا دشمن ِجاں  ہوگیاتھااور حضور کی محبت میں  اپنے تمام عزیزوں  قریبیوں  سے مخالفت گواراکی،سب کو چھوڑدینا قبول کیا،کوئی دقیقہ غمگساری و جاں  نثاری کا نامَرعی نہ رکھا (یعنی ہر لمحے غمگساری اور جاں  نثاری کی)، اور یقیناً جانتے تھے کہ حضور افضل المرسَلین صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اللہ کے سچے رسول ہیں ، ان پر ایمان لانے میں  جنت اَبدی اور تکذیب میں  جہنم دائمی ہے، بنوہاشم کو مرتے وقت وصیت کی کہ محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی تصدیق کرو فلاح پاؤ گے، نعت شریف میں  قصائدان سے منقول ،اور اُن میں  براہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب الایمان، باب الدلیل علی صحّۃ اسلام من حضرہ الموت۔۔۔ الخ، ص۳۴، الحدیث: ۴۱-۴۲(۲۵)۔
2…خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۵۶، ۳/۴۳۷، تفسیر کبیر، القصص، تحت الآیۃ: ۵۶، ۹/۵، ملتقطاً۔