Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
299 - 608
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں  اس سے منہ پھیر لیتے ہیں  اور کہتے ہیں : ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں  اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں ۔ بس تمہیں سلام، ہم جاہلوں  کا ساتھ نہیں  چاہتے۔
{وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ: اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں  اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ مکہ کے مشرکین اہلِ کتاب میں  سے ایمان لانے والوں  کو گالیاں  دیتے اور ان سے کہتے کہ تمہارا ستیاناس ہو، تم نے اپنے پرانے دین کو چھوڑ دیا۔ان کے اس طرزِ عمل پر ایمان لانے والے اہلِ کتاب ان سے منہ پھیر لیتے ہیں  اور یوں  کہتے ہیں :ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں  اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں ۔ بس تمہیں  دُور ہی سے سلام ہے اور ہم جاہلوں  کے ساتھ دوستی نہیں  کرنا چاہتے ۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ مشرک لوگ مکہ مکرمہ کے ایمانداروں  کو ان کا دین ترک کرنے اور اسلام قبول کرنے پر گالیاں  دیتے اور بُرا کہتے، یہ حضرات ان کی بیہودہ باتیں  سن کر اِعراض فرماتے اور ان سے کہتے ہیں  کہ ہمارے لئے ہمارا دین ہے اور تمہارے لئے تمہارا دین ہے ، ہم تمہاری بیہودہ باتوں  اور گالیوں  کے جواب میں  گالیاں  نہ دیں  گے اور ہم جاہلوں  کے ساتھ میل جول نشست و بَرخاست نہیں  چاہتے کیونکہ ہمیں  جاہلانہ حرکات گوارا نہیں ۔(1)
اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُۚ-وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ(۵۶)
 ترجمۂکنزالایمان:  بیشک یہ نہیں  کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کردو ہاں  الله ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت والوں  کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ایسا نہیں  ہے کہ تم جسے چاہو اسے اپنی طرف سے ہدایت دیدو لیکن الله جسے چاہتا ہے ہدایت 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۵۵، ۶/۴۱۴، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۵۵، ۳/۴۳۶، ملتقطاً۔