فراست وہ اُمور ذکر کیے کہ اس وقت تک واقع نہ ہوئے تھے (بلکہ) بعد ِ بعثت شریف ان کا ظہور ہوا،یہ سب احوال مطالعۂ اَحادیث و مُراجعت ِکتب ِسِیَر (یعنی سیرت کی کتابوں کی طرف رجوع کرنے ) سے ظاہر۔مگر مُجَرَّداِن اُمور سے ایمان ثابت نہیں ہوتا۔ کاش یہ افعال واقوال اُن سے حالت ِاسلام میں صادر ہوتے تو سیدنا عباس بلکہ ظاہراً سیدنا حمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے بھی افضل قرار پاتے اور افضل الاَعمام حضور افضل الاَنام عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہٖ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالسَّلَام (یعنی تمام انسانوں سے افضل حضورصَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے سب سے افضل چچا) کہلائے جاتے ۔ تقدیر ِالٰہی نے بربنا اُس حکمت کے جسے وہ جانے یا اُس کا رسول صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، انہیں گروہِ مسلمین و غلامانِ شفیع المذنبین صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ میں شمار کیا جانا منظور نہ فرمایا۔ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ۔ (تو اے عقل رکھنے والو! ان کے حال سے عبرت حاصل کرو) صرف معرفت گو کیسی ہی کمال کے ساتھ ہو ایمان نہیں ۔(1)
مزید فرماتے ہیں : ’’آیاتِ قرآنیہ و اَحادیثِ صحیحہ، مُتوافرہ ،مُتظافرہ (یعنی بکثرت صحیح احادیث) سے ابو طالب کا کفر پر مرنا اور دمِ واپسیں ایمان لانے سے انکار کرنا اور عاقبت کا ر اصحابِ نار سے ہونا ایسے روشن ثبوت سے ثابت جس سے کسی سنی کو مجالِ دم زدن نہیں ۔(2)
نوٹ:ابو طالب کے ایمان نہ لانے سے متعلق تفصیلی دلائل کی معلومات کے لئے فتاویٰ رضویہ کی29ویں جلد میں موجود اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کا رسالہ ’’شَرْحُ الْمَطَالِب فِی مَبْحَثِ اَبِی طَالِب‘‘ (ابو طالب کے ایمان سے متعلق بحث) کا مطالعہ کریں ۔
وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِـعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَاؕ-اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۵۷)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فتاویٰ رضویہ،رسالہ: شرح المطالب فی مبحث ابی طالب، ۲۹/۶۵۷-۶۵۸۔
2…فتاویٰ رضویہ،رسالہ: شرح المطالب فی مبحث ابی طالب، ۲۹/۶۶۱۔