وَالسَّلَام نے اُنہیں اسلام کی دعوت دی توانہوں نے سرکشی کی، حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کو ایذا دی، اُن لوگوں کے مکان ایک کنوئیں کے گرد تھے۔ اللہ تعالٰی نے انہیں ہلاک کیا اور یہ تمام قوم اپنے مکانوں سمیت اس کنوئیں کے ساتھ زمین میں دھنس گئی۔ کنویں والوں کے بارے میں اس کے علاوہ اور اَقوال بھی ہیں ۔مزید ارشاد فرمایا کہ قومِ عاد و ثمود اور کنوئیں والوں کے درمیان میں بہت سی امتیں ہیں جنہیں انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کرنے کے سبب سے اللہ تعالٰی نے ہلاک کر دیا۔(1)
{وَ كُلًّا: اور سب سے۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے ہر قوم کو سمجھانے کیلئے مثالیں بیان فرمائیں ،ان پر حجتیں قائم کیں اور ان میں سے کسی کو ڈر سنائے بغیر ہلاک نہ کیا اورجب انہوں نے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا توہم نے سب کو مکمل طور پر تباہ کردیا۔(2)
وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِؕ-اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَاۚ-بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا(۴۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور ضرور یہ ہو آئے ہیں اس بستی پر جس پر برا برساؤ برسا تھا تو کیا یہ اسے دیکھتے نہ تھے بلکہ انہیں جی اٹھنے کی امید تھی ہی نہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اوربیشک یہ اس بستی پر ہو آئے ہیں جس پر بری بارش کی گئی تو کیا یہ اس بستی کو نہیں دیکھتے تھے بلکہ یہ مرنے کے بعد اٹھنے کی امید نہیں رکھتے۔
{وَ لَقَدْ اَتَوْا: اور ضرور یہ ہو آئے ہیں ۔} یعنی کفارِمکہ شام کی طرف اپنے تجارتی سفروں میں بار بار اس بستی سے گزر چکے ہیں جس پر پتھروں کی بری بارش کی گئی تھی توکیا کفار مکہ سفر کے دوران اس بستی کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے تھے تاکہ ان کے انجام سے عبرت پکڑ تے اور ایمان لاتے، بلکہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ یہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے قائل ہی نہیں کہ انہیں آخرت کے ثواب و عذاب کی کوئی پروا ہ ہوتی،تو پھر ہلاکت کے آثار دیکھ کر یہ کس طرح
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۳۸، ۳/۳۷۳۔
2…جلالین، الفرقان، تحت الآیۃ: ۳۹، ص۳۰۶۔