پر اور مشرکین کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر کیا۔
دُگنا اجر پانے والے لوگ:
اس آیت میں دُگنا اجر پانے والے حضرات کا بیان ہوا اور حدیث ِپاک میں ان کے علاوہ مزید ایسے افراد کا بھی ذکر ہے جنہیں دگنا اجر ملے گا، چنانچہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جنہیں دو اجر ملیں گے، (1)اہلِ کتاب کا وہ شخص جو اپنے نبی پر بھی ایمان لایا اورسیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر بھی۔ (2) وہ غلام جس نے الله تعالیٰ کا حق بھی ادا کیا اور اپنے آقا کا بھی۔(3) وہ شخص جس کے پاس باندی تھی جس سے وہ قربت کرتا تھا، پھر اس کو اچھی طرح ادب سکھایا، اچھی تعلیم دی اور آزاد کر کے اس سے نکاح کر لیا تو اس کے لئے بھی دو اجر ہیں ۔(1)
{وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ: اور یہ بُرائی کو بھلائی سے دُور کرتے ہیں ۔} یہاں ان اہلِ کتاب کا ایک وصف یہ بیان کیاگیا کہ وہ برائی کو بھلائی سے دور کرتے ہیں ،اس سے مراد یہ ہے کہ وہ طاعت سے مَعصِیَت کو اور حِلم سے ایذاء کو دور کرتے ہیں ۔ حضرت عبد الله بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :اس سے مراد یہ ہے کہ وہ الله تعالیٰ کی وَحْدانیّت کی گواہی دینے سے شرک کو دور کرتے ہیں ۔آیت کے آخر میں ان کا یہ وصف بیان کیا گیا کہ وہ الله تعالیٰ کے دئیے ہوئے رزق میں سے کچھ اس کی راہ میں صدقہ کرتے ہیں ۔(2)
وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ٘-سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ٘-لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ(۵۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں اس سے تغافل کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے عمل اور تمہارے لیے تمہارے عمل بس تم پر سلام ہم جاہلوں کے غرضی نہیں ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکاۃ المصابیح، کتاب الایمان، الفصل الاول، ۱/۲۳، الحدیث: ۱۰، مسلم، کتاب الایمان، باب وجوب الایمان برسالۃ نبیّنا۔۔۔ الخ، ص۹۰، الحدیث: ۲۴۱(۱۵۴)۔
2…مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۵۴، ص۸۷۴، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۵۴، ۳/۴۳۶، ملتقطاً۔