Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
296 - 608
پر مشتمل آیات نازل ہوئیں  تاکہ یہ لوگ بار بار سن کر سمجھ سکیں  اور ایمان لائیں  تو ہمارا قرآن مجید کو تھوڑا تھوڑا نازل کرنا ان کی مَصلحت کی وجہ سے ہے اور وہ لوگ کس قدر جاہل ہیں  جو اپنی مصلحت کی مخالفت کر تے ہوئے قرآن مجید کو ایک ہی بار میں  نازل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔
اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ(۵۲)
ترجمۂکنزالایمان: جن کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جن لوگوں  کو ہم نے اس (قرآن) سے پہلے کتاب دی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ۔
{اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ: جن لوگوں  کو ہم نے اس (قرآن) سے پہلے کتاب دی۔} شانِ نزول :یہ آیت اہلِ کتاب کے مومن حضرات حضرت عبد الله بن سلام اور ان کے اصحاب کے حق میں  نازِل ہوئی اور ایک قول یہ ہے کہ یہ ان انجیل والوں کے حق میں  نازِل ہوئی جو حبشہ سے آ کر سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے۔ یہ چالیس حضرات تھے جو حضرت جعفر بن ابی طالب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ آئے ،جب انہوں  نے مسلمانوں  کی حاجت اور معاش کی تنگی دیکھی تو بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں  عرض کی: ہمارے پاس مال ہیں  ،حضور اجازت دیں  تو ہم واپس جا کر اپنے مال لے آئیں  اور ان سے مسلمانوں  کی خدمت کریں ۔ حضورپُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اجازت دی اور وہ جا کر اپنے مال لے آئے اور ان سے مسلمانوں  کی خدمت کی ۔ ان کے حق میں  یہ آیات ’’مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ‘‘ تک نازل ہوئیں ۔ حضرت عبد الله بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ یہ آیتیں  80 اہلِ کتاب کے حق میں  نازل ہوئیں  جن میں  40 نجران کے،32 حبشہ کے اور8 شام کے تھے۔(1)
وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ(۵۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۵۲، ۳/۴۳۶۔