والی ہو میں اس کی پیروی کرلوں گا۔ پھر اگر وہ یہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ بس وہ اپنی خواہشو ں ہی کی پیروی کررہے ہیں اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو الله کی طرف سے ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے ۔بیشک الله ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
{قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ: تم فرماؤ: تو الله کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ کفارِ مکہ کے انکار کرنے پر الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا’’اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان کافروں سے فرما دیں کہ اگر تم اپنے اس قول میں سچے ہو کہ تورات اور قرآن کریم جادو ہیں تو الله تعالیٰ کے پاس سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت والی ہو،اگر تم ایسی کتاب لے آئے تو میں اس کی پیروی کرلوں گا۔یہاں یہ تنبیہ فرمائی گئی کہ کفار ایسی کتاب لانے سے بالکل عاجز ہیں ،چنانچہ اگلی آیت میں ارشاد فرمایاجاتا ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، پھر اگر وہ کفار یہ تمہاری بات قبول نہ کریں اور ایسی کتاب نہ لاسکیں تو آپ جان لیں کہ یہ کفر کی جس سواری پر سوار ہیں اس کی ان کے پاس کوئی حجت نہیں ہے اور بس وہ اپنی خواہشو ں ہی کی پیروی کررہے ہیں حالانکہ اس سے بڑھ کر گمراہ کوئی نہیں جو خلافِ ہدایت اپنی خواہش کی پیروی کرے ۔بیشک الله تعالیٰ ظالم لوگوں کو اپنے دین کی طرف ہدایت نہیں دیتا ۔(1)
وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ(۵۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے ان کے لیے بات مسلسل اتاری کہ وہ دھیان کریں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے ان کے لیے کلام مسلسل بھیجا تا کہ وہ نصیحت مانیں ۔
{وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ: اور بیشک ہم نے ان کے لیے کلام مسلسل بھیجا۔} ارشاد فرمایاکہ بیشک ہم قرآنِ مجید کو ایک ہی بار میں نازل کرنے پر قادر ہیں لیکن ہم نے کفارِ قریش کے لیے اپناکلام مسلسل بھیجا اور قرآنِ کریم ان کے پاس لگاتار اور مسلسل آیا جس میں جنّت کے وعدے، جہنّم کے عذاب کی وعید،سابقہ قوموں کے واقعات ،عبرتوں اور نصیحتوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن،القصص،تحت الآیۃ: ۴۹-۵۰، ۳/۴۳۵-۵۳۶، روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۴۹-۵۰، ۶/۴۱۲، ملتقطاً۔