Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
292 - 608
یہ عذر پیش کر سکتے تھے کہ اے الله! عَزَّوَجَلَّ، ہم پر سختی اور عذاب نازل کرنے سے پہلے تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں  نہیں  بھیجا تاکہ ہم تیری دلیلوں  کو مانتے اور اپنے رسول پر جو کتاب تو نازل فرماتا ا س کی آیتوں  کی پیروی کرتے، صرف تیرے ہی معبود ہونے پر ایمان لاتے اور تیرے رسول کی اَحکامات اور ممنوعات میں  تصدیق اورا طاعت کرتے۔ لیکن الله تعالیٰ نے ایسا نہیں  کیا بلکہ اس نے عذاب نازل کرنے سے پہلے لوگوں  کی طرف اپنے رسول بھیجے تاکہ ان کی تبلیغ اور کوششوں  کے بعد جب اپنے کفر اور گناہوں  پر قائم رہنے والوں  کو ان کے اعمال کی سزا ملے تو وہ مذکورہ بالا عذر پیش نہ کر سکیں ۔
	اس کے ہم معنی وہ آیتِ مبارکہ ہے جس میں  الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’ وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِـعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر ہم انہیں رسول کے آنے سے پہلے کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو ضرور کہتے: اے  ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں  نہ بھیجا کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے تیری آیتوں  کی پیروی کرتے؟
فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰىؕ-اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُۚ-قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَاٙ۫-وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ(۴۸)
ترجمۂکنزالایمان:  پھر جب ان کے پاس حق آیا ہماری طرف سے بولے انہیں  کیوں  نہ دیا گیا جو موسیٰ کو دیا گیا کیا اس کے منکر نہ ہوئے تھے جو پہلے موسیٰ کو دیا گیا بولے دو جادو ہیں  ایک دوسرے کی پشتی پر اور بولے ہم ان دونوں  کے منکر ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:  پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیاتو انہوں  نے کہا: اس (نبی) کو اس جیسا کیوں  نہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…طہ:۱۳۴۔