Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
291 - 608
آپ اس قوم کو الله تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں  جس کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں  آیا اور انہیں  یہ امید کرتے ہوئے ڈرائیں  کہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔(1)
	یاد رہے کہ کفارِ مکہ کے پاس نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے پہلے کوئی رسول تشریف نہیں  لائے اور عرب میں  حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد سے لے کر سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تک کوئی رسول تشریف نہیں لائے اور اہلِ کتاب کے پاس حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد سے لے کر حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تک کوئی رسول تشریف نہیں  لائے اورسیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جس طرح کفارِ مکہ کو الله تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں ، اسی طرح اہل ِعرب ،اہل ِکتاب ،بلکہ پوری دنیا کے لوگوں  کو الله تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں ۔
وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِـعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ(۴۷) 
ترجمۂکنزالایمان:  اور اگر نہ ہوتا کہ کبھی پہنچتی انہیں  کوئی مصیبت اس کے سبب جو ان کے ہاتھوں  نے آگے بھیجا تو کہتے اے ہمارے رب تو نے کیوں  نہ بھیجا ہماری طرف کوئی رسول کہ ہم تیری آیتوں  کی پیروی کرتے اور ایمان لاتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگوں  کو ان کے ہاتھوں  کے آگے بھیجے ہوئے اعمال کی وجہ سے (جب جہنم کی) مصیبت پہنچتی تووہ کہتے: اے ہمارے رب!تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں  نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں  کی پیروی کرتے اور ایمان والوں  میں  سے ہوجاتے۔
{ وَ لَوْ لَاۤ: اور اگر یہ بات نہ ہوتی۔} اس آیت کامطلب یہ ہے کہ اگر کسی قوم کی طرف رسول بھیجنے سے پہلے ہی ان کے کفر اور گناہوں  کی وجہ سے ان پر الله تعالیٰ کی طرف سے کوئی سختی آجاتی یا ان پر الله تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتا تو وہ لوگ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۴۶، ۳/۴۳۴-۴۳۵، مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۴۶، ص۸۷۳، ملتقطاً۔