دیدیا گیا جیسا موسیٰ کو دیا گیا تھا؟ کیا انہوں نے ا س کا انکار نہیں کیاتھا جو پہلے موسیٰ کو دیاگیا؟ انہوں نے کہا : یہ دو جادو ہیں جو ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور انہوں نے کہا : بیشک ہم ان سب کا انکار کرنے والے ہیں ۔
{فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا: پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا۔} اس سے پہلی آیت میں بیان کیا گیا کہ خوف کے وقت کافر کہیں گے کہ اے ہمارے رب!تونے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور اس آیت میں رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بھیجے جانے کے بعد کفارِ مکہ کا حال بیان کیا جا رہا ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ جب کفارِمکہ کے پاس ہماری طرف سے محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لائے تو انہوں نے کہا: اس نبی (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کو اس جیسا کیوں نہ دیدیا گیا جیسا (حضرت) موسیٰ (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کو دیا گیا تھا؟ یعنی انہیں قرآنِ کریم یکبارگی کیوں نہیں دیا گیا جیسا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پوری توریت ایک ہی بار میں عطا کی گئی تھی؟ یا اس کے یہ معنی ہیں کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو عصا اور روشن ہاتھ جیسے وہ معجزات کیوں نہ دیئے گئے جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دئیے گئے تھے؟اس کا پس ِمنظر یہ ہے کہ یہودیوں نے کفارِ قریش کو پیغام بھیجا کہ وہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سے معجزات طلب کریں ۔جب کفارِ قریش نے ایسا کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ جن یہودیوں نے یہ سوال کرنے کا کہا ہے کیا وہ خود روشن نشانیوں کے باوجود حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اور جو انہیں الله تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے اس کے منکر نہ ہوئے اور جب یہ خود اس کے منکر ہیں جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیا گیا تو کس منہ سے اس کا مطالبہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کرنے کا کہہ رہے ہیں ۔بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ کفارِ قریش تمام انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے منکر تھے اور جب انہوں نے (یہودیوں کے کہنے پر) رسولِ کریم صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جیسے معجزات طلب کئے تو ا س پر الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا’’ کیا کفارِ مکہ نے اس کا انکار نہیں کیا تھا جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیا گیا اورجب یہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دئیے جانے والے معجزات کے منکر ہیں تو پھر ان جیسے معجزات کا مطالبہ کیوں کر رہے ہیں !(1)
{قَالُوْا سِحْرٰنِ: انہوں نے کہا تھا کہ یہ دو جادو ہیں ۔} مکہ کے مشرکین نے مدینہ کے یہودی سرداروں کے پاس قاصد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرکبیر، القصص، تحت الآیۃ: ۴۸، ۸/۶۰۵-۶۰۶، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۴۸، ۳/۴۳۵، ملتقطاً۔