عَہدوں کو بھول گئے اور انہیں پورا کرنا ترک کر دیا ، اور اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، نہ ہی آپ مَدیَن والوں میں ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھتے ہوئے مقیم تھے ،تو ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا،آپ کو علم دیا اور پہلوں کے حالات پر مُطَّلع کیا تاکہ آپ لوگوں کے سامنے ان واقعات کو بیان فرمائیں اور اگر الله تعالیٰ آپ کوان کی خبر نہ دیتا تو آپ از خود ان واقعات کے بارے میں نہ جان سکتے تھے اور نہ ہی لوگوں کو بتا سکتے تھے ۔(1)
وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ(۴۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور نہ تم طور کے کنارے تھے جب ہم نے ندا فرمائی ہاں تمہارے رب کی مہر ہے (کہ تمہیں غیب کے علم دئیے) کہ تم ایسی قوم کو ڈر سناؤ جس کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا یہ امید کرتے ہوئے کہ ان کو نصیحت ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور نہ تم اس وقت طور کے کنارے پرتھے جب ہم نے (موسیٰ کو) ندا فرمائی ،لیکن تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے تاکہ تم اس قوم کو ڈراؤ جس کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا یہ امید کرتے ہوئے کہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔
{وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ: اور نہ تم اس وقت طور کے کنارے پرتھے۔} ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اور نہ آپ اس وقت کوہِ طور کے کنارے پرتھے جب ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تورات عطا فرمانے کے بعدندا فرمائی ،لیکن یہ آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے رحمت ہے کہ ا س نے آپ کو غیبی علوم عطا فرمائے جن سے آپ گزشتہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اورسابقہ امتوں کے احوال بیان فرمارہے ہیں اور آپ کا ان اُمور کی خبر دیناآپ کی نبوت کی روشن اور ظاہر دلیل ہے ۔ الله تعالیٰ نے آپ کو غیبی علوم اس لئے عطا فرمائے تاکہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…البحر المحیط، القصص، تحت الآیۃ: ۴۴-۴۵، ۷/۱۱۶-۱۱۷، مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۴۴-۴۵، ص۸۷۲- ۸۷۳، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۴۴-۴۵، ۳/۴۳۴۔