Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
289 - 608
وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَاۙ-وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ(۴۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور تم طور کی جانب مغرب میں  نہ تھے جبکہ ہم نے موسیٰ کو رسالت کا حکم بھیجا اور اس وقت تم حاضر نہ تھے۔ مگر ہوا یہ کہ ہم نے سنگتیں  پیدا کیں  کہ ان پر زمانہ دراز گزرا اور نہ تم اہلِ مَدیَن میں  مقیم تھے ان پر ہماری آیتیں  پڑھتے ہوئے ہاں  ہم رسول بنانے والے ہوئے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم اس وقت طور کی مغربی جانب میں  نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کی طرف حکم بھیجا اور اس وقت تم موجود نہ تھے۔ لیکن (ہوا یہ) کہ ہم نے بہت سی قومیں  پیدا کیں تو ان کی عمریں  لمبی ہوگئیں  اور نہ تم اہلِ مدین میں  ان پر ہماری آیتیں  پڑھتے ہوئے مقیم تھے لیکن ہم رسول بھیجنے والے ہیں ۔
{وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ : اورتم اس وقت طور کی مغربی جانب میں  نہ تھے۔} اس سے پہلی آیات میں  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حیرت انگیز واقعات بیان ہوئے اور اب یہاں  سے وہ انعام بیان کیا جا رہا ہے جو الله تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر فرمایا کہ الله تعالیٰ نے انہیں  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ان واقعات کی وحی فرمائی اور ان غیبی علوم کے ساتھ خاص فرمایا جو آپ نہیں  جانتے تھے، چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے انبیاء کے سردار! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جب ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف رسالت کاپیغام بھیجا،ان سے کلام فرمایا اورانہیں  اپنی بارگاہ میں  قرب عنایت کیاتھا،اس وقت آپ وہاں  حاضر نہ تھے،لیکن ہوا یہ کہ ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد بہت سی امتیں  پیدا کیں  اور جب ان کی عمریں  لمبی ہوگئیں  تو وہ الله تعالیٰ کا عہد بھول گئے اور انہوں  نے اس کی فرمانبرداری ترک کر دی اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ الله تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم سے عالَم کے سردار،حبیب ِ خدا ،محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حق میں  اور آپ پر ایمان لانے کے متعلق عہد لئے تھے اور جب طویل زمانہ گزرا اور امتوں  کے بعد امتیں  گزرتی چلی گئیں  تو وہ لوگ ان