Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
287 - 608
عذابِ جہنم کے مستحق ہوں  اور جو ان کی اطاعت کرے وہ بھی جہنمی ہو جائے اور قیامت کے دن کسی بھی طرح ان سے عذاب دور کر کے ان کی مدد نہیں  کی جائے گی۔ (1)
لوگوں  کو گمراہی اور بد عملی کی دعوت دینے والوں  کا انجام:
	اس آیت کے مِصداق آج کل کے وہ لوگ بھی ہیں  جو لوگوں  کو کفر و گمراہی اور بدعملی کی طرف بلاتے ہیں ،ان پر اپنے ا س عمل کا گناہ ہو گا اور جو لوگ ان کی پیروی کر رہے ہیں  وہ بھی گناہگار ہوں  گے اور دعوت دینے والوں  کے کندھوں  پر اپنے عمل کے گناہ کے علاوہ ان کی پیروی کرنے والوں  کے گناہوں  کا بوجھ الگ ہوگا۔لوگوں  کو گمراہ کرنے والوں  کے بارے میں  ایک اور مقام پر الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِۙ-وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍؕ-اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس لئے کہ قیامت کے دن اپنے پورے بوجھ اور کچھ ان لوگوں  کے گناہوں  کے بوجھ اُٹھائیں  جنہیں  اپنی جہالت سے گمراہ کر رہے ہیں ۔ سن لو! یہ کیا ہی بُرا بوجھ اُٹھاتے ہیں ۔
	اور حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی اسے ا س ہدایت کی پیروی کرنے والوں  کے برابر اجر ملے گا اور پیروی کرنے والوں  کے اجروں  میں  کوئی کمی نہ ہو گی اور جس شخص نے کسی گمراہی کی دعوت دی اسے اس گمراہی کی پیروی کرنے والوں  کے برابر گناہ ہو گا اور پیروی کرنے والوں  کے گناہوں  میں  کوئی کمی نہ ہو گی۔(3)
	 الله تعالیٰ ایسے لوگوں  کو اپنے حال پر رحم کھانے اور اپنے اس برے عمل سے باز آجانے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔ 
{وَ اَتْبَعْنٰهُمْ: اور ہم نے ان کے پیچھے (لعنت) لگادی۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس دنیا میں  فرعون اور اس کی قوم پر رسوائی اور رحمت سے دوری لازم کر دی اور قیامت کے دن وہ لوگ بری حالت والوں  میں  سے ہوں  گے۔(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۴۱، ۳/۴۳۴۔
2…نحل:۲۵۔
3…مسلم، کتاب العلم، باب من سنّ سنّۃ حسنۃ او سیّئۃ۔۔۔ الخ، ص۱۴۳۹، الحدیث: ۱۶(۲۶۷۴)۔
4…مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۴۲، ص۸۷۲۔