کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ فرعون اور اس کے لشکریوں نے مصر کی سر زمین میں بے جا تکبر کیا اور حق کو نہ مانا اور باطل پر رہے اوروہ یہ سمجھ بیٹھے کہ انہیں اپنے اعمال کے حساب اور ان کی جزا کے لئے ہماری طرف لوٹ کر نہیں آناتو ہم نے فرعون اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا اور وہ سب غرق ہو گئے ،تو اے قرآن پڑھنے والو! دیکھو ظالموں کا کیسا انجام ہوا ؟ اور ان کے دردناک انجام سے عبرت حاصل کرو۔(1)
یہ وہ بنیادی مقصد ہے جس کیلئے یہ سارا واقعہ بیان کیا گیا کہ گزشتہ قوموں کے واقعات اور ان کے عروج و زوال سے عبرت حاصل کی جائے اور اپنی حالت کو سدھارا جائے ۔ افسوس!فی زمانہ لوگ اس مقصد سے انتہائی غفلت کا شکار ہیں اور سابقہ قوموں کی عملی حالت اور ان کے عبرت ناک انجام سے نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ الله تعالیٰ انہیں عقل ِسلیم عطا فرمائے ،اٰمین۔
وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىٕمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِۚ-وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ(۴۱)وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةًۚ-وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠(۴۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور انہیں ہم نے دوزخیوں کا پیشوا بنایا کہ آگ کی طرف بلاتے ہیں اور قیامت کے دن ان کی مدد نہ ہوگی۔ اور اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگائی اور قیامت کے دن ان کا بُرا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور انہیں ہم نے پیشوا بنادیا کہ آگ کی طرف بلاتے ہیں اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔ اور اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگادی اور قیامت کے دن وہ قبیح (بُری) حالت والوں میں سے ہوں گے۔
{وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىٕمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ: اور انہیں ہم نے پیشوا بنادیا کہ آگ کی طرف بلاتے ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے فرعون اور ا س کی قوم کو دنیا میں لوگوں کا پیشوا بنا دیا کہ وہ کفر اور گناہوں کی دعوت دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن،القصص،تحت الآیۃ:۳۹-۴۰،۳/۴۳۳-۴۳۴، مدارک،القصص،تحت الآیۃ:۳۹-۴۰،ص۸۷۱-۸۷۲، ملتقطاً۔