Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
286 - 608
کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ فرعون اور اس کے لشکریوں  نے مصر کی سر زمین میں  بے جا تکبر کیا اور حق کو نہ مانا اور باطل پر رہے اوروہ یہ سمجھ بیٹھے کہ انہیں  اپنے اعمال کے حساب اور ان کی جزا کے لئے ہماری طرف لوٹ کر نہیں  آناتو ہم نے فرعون اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں  پھینک دیا اور وہ سب غرق ہو گئے ،تو اے قرآن پڑھنے والو! دیکھو ظالموں  کا کیسا انجام ہوا ؟ اور ان کے دردناک انجام سے عبرت حاصل کرو۔(1)
	 یہ وہ بنیادی مقصد ہے جس کیلئے یہ سارا واقعہ بیان کیا گیا کہ گزشتہ قوموں  کے واقعات اور ان کے عروج و زوال سے عبرت حاصل کی جائے اور اپنی حالت کو سدھارا جائے ۔ افسوس!فی زمانہ لوگ اس مقصد سے انتہائی غفلت کا شکار ہیں  اور سابقہ قوموں  کی عملی حالت اور ان کے عبرت ناک انجام سے نصیحت حاصل نہیں  کرتے۔ الله تعالیٰ انہیں  عقل ِسلیم عطا فرمائے ،اٰمین۔
وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىٕمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِۚ-وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ(۴۱)وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةًۚ-وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠(۴۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور انہیں  ہم نے دوزخیوں  کا پیشوا بنایا کہ آگ کی طرف بلاتے ہیں  اور قیامت کے دن ان کی مدد نہ ہوگی۔ اور اس دنیا میں  ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگائی اور قیامت کے دن ان کا بُرا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور انہیں  ہم نے پیشوا بنادیا کہ آگ کی طرف بلاتے ہیں  اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں  کی جائے گی۔ اور اس دنیا میں  ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگادی اور قیامت کے دن وہ قبیح (بُری) حالت والوں  میں  سے ہوں  گے۔
{وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىٕمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ: اور انہیں  ہم نے پیشوا بنادیا کہ آگ کی طرف بلاتے ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے فرعون اور ا س کی قوم کو دنیا میں  لوگوں  کا پیشوا بنا دیا کہ وہ کفر اور گناہوں کی دعوت دیتے ہیں  جس کی وجہ سے وہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن،القصص،تحت الآیۃ:۳۹-۴۰،۳/۴۳۳-۴۳۴، مدارک،القصص،تحت الآیۃ:۳۹-۴۰،ص۸۷۱-۸۷۲، ملتقطاً۔