سے کہا کہ اے ہامان!میرے لیے گارے پر آگ جلا کر اینٹ تیار کرو، پھر میرے لئے ایک انتہائی اونچا محل بناؤ، شاید میں موسیٰ کے خدا کو جھانک لوں اور بیشک میں توموسیٰ کو اپنے اس دعوے میں جھوٹوں میں سے ہی سمجھتا ہوں کہ اس کا ایک معبود ہے جس نے اسے اپنا رسول بنا کر ہماری طرف بھیجا ہے ۔
فرعون نے یہ گمان کیا تھا کہ (مَعَاذَ الله) الله تعالیٰ کے لئے بھی مکان ہے اور وہ جسم ہے کہ اس تک پہنچنا اس کے لئے ممکن ہو گا ،اس لئے اس نے ہامان کو عمارت بنانے کا حکم دیا اور اپنے ارادے کا اظہار کیا،چنانچہ ہامان نے فرعون کے حکم پر عمل کرنے کے لئے ہزارہاکاریگر اور مزدور جمع کئے، اینٹیں بنوائیں اور تعمیراتی سامان جمع کر کے اتنی بلند عمارت بنوائی کہ دنیا میں اس کے بر ابر کوئی عمارت بلند نہ تھی۔ کہتے ہیں کہ دنیا میں سب سے پہلے اینٹ بنانے والا ہامان ہے، یہ صَنعت اس سے پہلے نہ تھی ۔(1)
وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ(۳۹)فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّۚ-فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ(۴۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور اس نے اور اس کے لشکریوں نے زمین میں بے جا بڑائی چاہی اور سمجھے کہ انہیں ہماری طرف پھرنا نہیں ۔تو ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا تو دیکھو کیسا انجام ہوا ستم گاروں کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس نے اور اس کے لشکریوں نے زمین میں بے جا تکبر کیا اوروہ سمجھے کہ انہیں ہماری طرف پھرنا نہیں ۔ تو ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا تو دیکھو ظالموں کا کیسا انجام ہوا؟
{وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ: اور اس نے اور اس کے لشکریوں نے زمین میں تکبر کیا۔} اس آیت اور اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۳۸، ۳/۴۳۳، مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۳۸، ص۸۷۱، ملتقطاً۔