Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
284 - 608
عَزَّوَجَلَّ اسے خوب جانتا ہے جو ہم میں  سے حق پر ہے اور جسے الله تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ سرفراز فرمایا ہے اور اسے بھی خوب جانتا ہے جس کے لیے آخرت کا گھر ہوگااور وہ وہاں  کی نعمتوں  اور رحمتوں  کے ساتھ نوازا جائے گا، اگر تمہارے گمان کے مطابق میرے دکھائے ہوئے معجزات جادو ہیں  اور میں  نے انہیں  الله تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے جھوٹ بولا ہے تو الله تعالیٰ مجھے یہ کبھی عطا نہ فرماتا کیونکہ وہ غنی اور حکمت والا ہے اور اس کی یہ شان نہیں  کہ وہ کسی جھوٹے اور جادو گر کو رسول بنا کر بھیجے ۔ بے شک کفر کر کے اپنی جانوں  پر ظلم کرنے والے کامیاب نہیں  ہوں  گے اور کافروں  کو آخرت کی کامیابی مُیَسَّر نہیں  ۔(1)
وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْۚ-فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰىۙ-وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ(۳۸)
ترجمۂکنزالایمان: اور فرعون بولا اے درباریو!میں  تمہارے لیے اپنے سوا کوئی خدا نہیں  جانتا تو اے ہامان میرے لیے گارا پکا کر ایک محل بنا کہ شاید میں  موسیٰ کے خدا کو جھانک آؤں  اور بیشک میرے گمان میں  تو وہ جھوٹا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور فرعون نے کہا: اے درباریو!میں  تمہارے لیے اپنے سوا کوئی خدا نہیں  جانتا تو اے ہامان! میرے لیے گارے پر آگ جلا پھر میرے لئے ایک اونچا محل بناؤ، شاید میں  موسیٰ کے خدا کو جھانک لوں اور بیشک میں  تو اسے جھوٹوں  میں  سے ہی سمجھتا ہوں ۔
{وَ قَالَ فِرْعَوْنُ:  اور فرعون نے کہا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرعون کو جو الله تعالیٰ کی وَحْدانیَّت پر ایمان لانے اور صرف اسی کی عبادت کرنے کی دعوت دی تھی، ا س کا انکار کرتے ہوئے فرعون نے اپنے دربار میں  موجود لوگوں  سے کہا: اے درباریو!میں  تمہارے لیے اپنے سوا کوئی خدا نہیں  جانتا جس کی تم عبادت کرو۔پھر اس نے اپنے وزیر ہامان
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۸۷۰۔