عربیت کا وہ علم جو عربی زبان اور اس کی فصاحت و بلاغت سے تعلق رکھتا ہے اسے ادب کہتے ہیں ۔(1)
اور علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’آپ صَلَّی الله تَعَالٰیعَلَیْہ وَسَلَّمَ کی زبانِ اقدس وحیِ الٰہی کی ترجمان اور سر چشمۂ آیات ومَخزنِ معجزات ہے ،اس کی فصاحت و بلاغت اس قدر حد ِاِعجاز کو پہنچی ہوئی ہے کہ بڑے بڑے فُصحاء و بُلغاء آپ کے کلام کو سن کر دنگ رہ جاتے تھے۔ (اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :)
ترے آگے یوں ہیں دبے لَچے فصحاء عرب کے بڑے بڑے کوئی جانے منہ میں زباں نہیں ، نہیں بلکہ جسم میں جاں نہیں
آپ صَلَّی الله تَعَالٰیعَلَیْہ وَسَلَّمَ کی مُقَدَّس زبان کی حکمرانی اور شان کا یہ اعجاز تھا کہ زبان سے جو فرمادیا وہ ایک آن میں معجزہ بن کر عالَمِ وجود میں آ گیا۔ (اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :)
وہ زباں جس کو سب کُن کی کُنجی کہیں اس کی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام
اس کی پیاری فصاحت پہ بے حد درود اس کی دلکش بلاغت پہ لاکھوں سلام (2)
آیت ’’وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
اس آیت سے دو مسئلے معلوم ہوئے ،
(1)… الله عَزَّوَجَلَّ کے بندوں کی مدد لینا انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے جیسے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مدد لی۔
(2)… بزرگوں کی دعا سے و ہ نعمت ملی سکتی ہے جو کسی اور سے نہیں مل سکتی، جیسے حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا سے ہے ۔
یاد رہے کہ نبوت الله تعالیٰ کی عطا ہے اور وہ جسے چاہتا ہے یہ عطا فرماتا ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری کے بعد اب قیامت تک کسی کو نبوت نہیں مل سکتی کیونکہ آپ صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ آخری نبی ہیں اور آپ کی آمد پر الله تعالیٰ نے نبوت کاسلسلہ ختم فرما دیا ہے ، البتہ اب بھی الله تعالیٰ کی بارگاہ کے مُقَرَّب بندوں کی دعا سے ولایت، علم ،اولاد اور سلطنت مل سکتی ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارج النبوہ، باب اول در بیان حسن وخلقت وجمال، بیان فصاحت شریف، ۱/۱۰۔
2…سیرت مصطفی، شمائل وخصائل، زبان اقدس، ص۵۷۵-۵۷۶۔