Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
280 - 608
{وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا: اور میرا بھائی ہارون اس کی زبان مجھ سے زیادہ صاف ہے۔} حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بڑے بھائی تھے اور بچپن میں  فرعون کے ہاں  انگارہ منہ میں  رکھ لینے کی وجہ سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زبان شریف میں  لکنت آ گئی تھی اس لئے آپ نے فرمایا کہ میرے بھائی حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زبان مجھ سے زیادہ صاف ہے تو اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، اسے میری مدد کے لئے فرعون اور ا س کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیج تاکہ وہ حق بات کومزید واضح کر کے اور حق کے دلائل بیان کر کے میری تصدیق کرے ، بے شک مجھے ڈر ہے کہ فرعون اور ا س کی قوم کے لوگ مجھے جھٹلائیں  گے اور میری دعوت کو قبول نہیں  کریں  گے ۔(1)
سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی فصاحت:
	اس آیت میں  حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی فصاحت اور زبان کی صفائی کا ذکر ہوا، اگرچہ اس سے مراد زبان میں  لکنت نہ ہونا اور صحیح صحیح بات کرنا ہے لیکن لفظ ِ فصاحت کی مناسبت سے یہاں  تاجدارِ رسالت صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زبانِ اقدس کی فصاحت کابیان کیا جاتا ہے ،چنانچہ علامہ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زبان مبارک کی فصاحت، کلام میں جامع الفاظ ،انوکھا اظہارِ بیان، حیرت انگیزاحکامات اور فیصلے اتنے زیادہ ہیں  کہ شا ید ہی کوئی غورو فکر کرنے والا شخص ان کا اِحاطہ کر سکے ،آپ صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اوصاف کا بیان اور ان کے بیان کازبان کے ساتھ اظہار ممکن ہی نہیں  ہے کیونکہ الله تعالیٰ نے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے زیادہ فصیح اور شیریں  بیان دوسرا پیدا ہی نہیں  فرمایا۔ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب نے عرض کی : یا رسولَ الله !صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، نہ تو آپ کہیں  باہر تشریف لے گئے اور نہ آپ نے لوگوں  میں  نشست و بَرخاست رکھی ،پھر آپ ایسی فصاحت کہاں  سے لائے ہیں ؟آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی لغت اور اصطلاح جو ناپید اور فنا ہو چکی تھی،اسے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام میرے پاس لے کر آئے ،جسے میں  نے یاد کر لیا ہے۔نیز آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے مجھے ادب سکھایا تو میرے ادب کو بہت اچھا کر دیا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۳۴، ۶/۴۰۴، ملتقطاً۔