Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
278 - 608
نہ دیکھا۔ تب انہیں  ندا کی گئی ’’ اے موسیٰ! سامنے آؤ اور ڈرو نہیں  ،بیشک تم امن والوں  میں  سے ہو اور تمہیں  کوئی خطرہ نہیں۔(1)
اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُ جْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ٘-وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهٖؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ(۳۲)
ترجمۂکنزالایمان: اپنا ہاتھ گریبان میں  ڈال نکلے گا سفید چمکتا بے عیب اور اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ لے خوف دور کرنے کو تو یہ دو حجتیں  ہیں  تیرے رب کی فرعون اور اس کے درباریوں  کی طرف بیشک وہ بے حکم لوگ ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اپنا ہاتھ گریبان میں  ڈالو تووہ بغیر کسی مرض کے سفید چمکتا ہوا نکلے گا اور خوف دور کرنے کیلئے اپنا ہاتھ اپنے ساتھ ملالو تو تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں  کی طرف یہ دو بڑی دلیلیں  ہیں  ،بیشک وہ نافرمان لوگ ہیں ۔
{اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ: اپنا ہاتھ گریبان میں  ڈالو۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے مزید فرمایا گیا کہ اپنا ہاتھ اپنی قمیص کے گریبان میں  ڈال کر نکالو تووہ کسی مرض کے بغیر سفید اور سورج کی شعاع کی طرح چمکتا ہوا نکلے گا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنا دست ِمبارک گریبان میں  ڈال کر نکالا تو اس میں  ایسی تیز چمک تھی جس سے نگاہیں  جھپک گئیں ۔اس کے بعد ارشاد فرمایا: ’’اور خوف دور کرنے کیلئے اپنا ہاتھ اپنے ساتھ ملالو تاکہ ہاتھ اپنی اصلی حالت پر آئے اور خوف دور ہو جائے۔ یہاں  جس خوف کا ذکر ہوا اس کے سبب کے بارے میں  ایک قول یہ ہے کہ ہاتھ کی چمک دیکھ کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دل میں  خوف پیدا ہوا اور اس خوف کو دور کرنے کے لئے یہ طریقہ ارشاد فرمایا گیا ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے وہی خوف مراد ہے جو سانپ کو دیکھنے سے پیدا ہو اتھا،اسے آیت میں  بیان کئے گئے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۳۱، ص۸۶۹، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۳۱، ۳/۴۳۲، ملتقطاً۔