Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
277 - 608
سے انہیں  ندا کی گئی :اے موسیٰ!بیشک میں  ہی الله ہوں ،سارے جہانوں  کاپالنے والاہوں ۔
{فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا: پھر جب آگ کے پاس آئے۔ } جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی زوجہ محترمہ کو اس جگہ چھوڑ کر آگ کے پاس آئے تو برکت والی جگہ میں  میدان کے اس کنارے سے جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دائیں  ہاتھ کی طرف تھا، ایک درخت سے انہیں  ندا کی گئی :اے موسیٰ!بیشک میں  ہی الله ہوں ،سارے جہانوں  کاپالنے والاہوں ۔ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے سرسبز درخت میں  آ گ دیکھی تو جان لیا کہ الله تعالیٰ کے سوا یہ کسی کی قدرت نہیں  اور بے شک جو کلام انہوں  نے سنا ہے اس کا مُتَکَلِّم الله تعالیٰ ہی ہے ۔ یہ بھی منقول ہے کہ یہ کلام حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے صرف اپنے مبارک کانوں  ہی سے نہیں  بلکہ اپنے جسمِ اقدس کے ہر ہر جُزْوْ سے سنا ،اور جس درخت سے انہیں  ندا کی گئی وہ عناب کا درخت تھا یا عوسج کا (جو کہ ایک خاردار درخت ہے اور اکثر جنگلوں  میں  ہوتا ہے۔)(1)
وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَؕ-فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْؕ-یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ- اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ(۳۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور یہ کہ ڈال دے اپنا عصا پھر جب موسیٰ نے اسے دیکھا لہراتا ہوا گویا سانپ ہے پیٹھ پھیر کر چلا اور مڑ کر نہ دیکھا اے موسیٰ سامنے آ اور ڈر نہیں  بیشک تجھے امان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ کہ تم اپنا عصا ڈال دو تو جب اسے لہراتا ہوا دیکھا گویا کہ سانپ ہے تو حضرت موسیٰ پیٹھ پھیر کر چلے اور مڑ کر نہ دیکھا۔ (ہم نے فرمایا:) اے موسیٰ! سامنے آؤ اورنہ ڈرو ،بیشک تم امن والوں  میں  سے ہو۔
{وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ: اور یہ کہ تم اپنا عصاڈال دو۔} کوہِ طور پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے یہ فرمایا گیا کہ تم اپنا عصا نیچے رکھ دو، چنانچہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عصا نیچے رکھ دیا تووہ سانپ بن گیا اور جب اسے لہراتا ہوا دیکھا گویا کہ سانپ ہے تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس سے خوفزدہ ہوئے اور اس طرح پیٹھ پھیر کر چلے کہ آپ نے پیچھے مڑ کر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۳۰، ۳/۴۳۱-۴۳۲، مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۳۰، ص۸۶۹، ملتقطاً۔