یا تمہارے لیے کوئی آگ کی چنگاری لاؤں تاکہ تم گرمی حاصل کرو۔
{فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ: پھر جب موسیٰ نے اپنی مدت پوری کردی اور اپنی بیوی کو لے کر چلے۔} جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ملازمت کی مدت پوری کر دی تو حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آپ کا نکاح اپنی بڑی صاحبزادی صفورا سے کردیا ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دس سال کی میعاد پوری فرمائی تھی، جیسا کہ حضرت عبد الله بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بڑی میعاد یعنی دس سال پورے کئے۔ پھرآپ نے حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے مصر کی طرف واپس جانے کی اجازت چاہی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اجازت دیدی ،چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی زوجہ کوان کے والد کی اجازت سے مصر کی طرف لے کر چلے ۔ سفر کے دوران جب آپ ایک جنگل میں تھے، اندھیری رات تھی ، سردی شدت کی پڑ رہی تھی اور راستہ گم ہو گیا تھا تو اس وقت آپ نے کوہِ طور کی طرف ایک آگ دیکھی ،اسے دیکھ کر آپ نے اپنی گھر والی سے فرمایا’’ تم یہاں ٹھہرو ، بیشک میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں وہاں سے راستے کی کچھ خبر لاؤ ں کہ کدھر جانا ہے یا تمہارے لیے کوئی آگ کی چنگاری لے آؤں تاکہ تم اس سے گرمی حاصل کرسکو۔(1)
نوٹ :اس واقعے سے متعلق بعض تفصیلات سورئہ طہٰ ،رکوع نمبر10میں گزرچکی ہیں ، وہاں ملاحظہ فرمالیں ۔
فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۳۰)
ترجمۂکنزالایمان: پھر جب آگ کے پاس حاضر ہوا ندا کی گئی میدان کے دہنے کنارے سے برکت والے مقام میں پیڑ سے کہ اے موسیٰ بیشک میں ہی ہوں الله رب سارے جہان کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر جب آگ کے پاس آئے تو برکت والی جگہ میں میدان کے دائیں کنارے سے ایک درخت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۲۹، ۳/۴۳۱، جلالین مع جمل، القصص، تحت الآیۃ: ۲۹، ۶/۲۴، ملتقطاً۔