Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
268 - 608
(1)… خطرناک جگہ سے نکل جانا اور جان بچانے کی تدبیر کرنا انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔
(2)… اسباب پر عمل کرنا اور تدبیراختیار کرنا توکّل کے خلاف نہیں ۔
(3)… حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مار سے قبطی کا مر جانا ایسافعل نہیں  تھا جس کی وجہ سے قصاص لازم ہوتا اور اگر وہ صورت ایسی ہوتی جس میں  قصاص لازم ہوتاتو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام شہر سے نکلنے کی بجائے خود اپنے آپ کو قصاص کے لئے پیش فرمادیتے ۔
 (4)… کبھی مصیبت بندے کو اچھی طرف لے جاتی ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بظاہر فرعون کی وجہ سے شہر چھوڑ رہے تھے مگر درحقیقت الله تعالیٰ کی طرف جا رہے تھے۔ آپ کا یہ سفر بہت فتح اور کامیابی کا پیش خیمہ ہوا، حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صحبت ، نیک بیوی اور نبوت کا عطا ہونا سب اسی سفر میں  آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مَرحمت ہوا۔
وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ(۲۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوا کہا قریب ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راہ بتائے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب وہ مدین کی طرف متوجہ ہوئے توکہا :عنقریب میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے گا۔
{وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ: اور جب وہ مدین کی طرف متوجہ ہوئے۔} مدین و ہ مقام ہے جہاں  حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تشریف رکھتے تھے ،اس کو مدینِ ابنِ ابراہیم کہتے ہیں ، مصر سے یہاں  تک آٹھ روز کی مسافت ہے، یہ شہر فرعون کی سلطنت کی حدود سے باہر تھا، حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس کا رستہ بھی نہ دیکھا تھا ،نہ کوئی سواری ساتھ تھی ،نہ توشہ نہ کوئی ہمراہی ،راستے میں  درختوں  کے پتوں  اور زمین کے سبزے کے سوا خوراک کی اور کوئی چیز نہ ملتی تھی۔ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مدین کی طرف جانے کا ارادہ کیا تویوں کہا :عنقریب میرا رب عَزَّوَجَلَّ مجھے مدین تک 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، القصص، تحت الآیۃ: ۲۲، ص۳۲۸، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۲۲، ۳/۴۲۸-۴۲۹، ملتقطاً۔