Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
266 - 608
اور انہیں  کوئی ثبوت نہیں  ملتا تھا ۔دوسرے دن جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پھر ایسا اتفاق پیش آیا کہ بنی اسرائیل کا وہی مرد جس نے ایک روز پہلے ان سے مدد چاہی تھی آج پھر ایک فرعونی سے لڑ رہا ہے،وہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھ کر ان سے فریاد کرنے لگا ۔تب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس سے فرمایا: ’’بیشک تو ضرورکھلا گمراہ ہے۔ اس سے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مراد یہ تھی کہ تو روز لوگوں  سے لڑتا ہے، اپنے آپ کو بھی مصیبت و پریشانی میں  ڈالتا ہے اور اپنے مددگاروں  کو بھی،تو کیوں  ایسے موقعوں  سے نہیں  بچتا اور کیوں  احتیاط نہیں  کرتا۔ پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو رحم آیا اور آپ نے چاہا کہ اس کو فرعونی کے پنجہ ِظلم سے رہائی دلائیں  ۔تو جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چاہا کہ اس فرعونی کو پکڑلیں  اور اس پر گرفت فرمائیں  جو ان دونوں  کا دشمن تھا تو اسرائیلی مردغلطی سے یہ سمجھا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مجھ سے خفا ہیں  اور مجھے پکڑنا چاہتے ہیں  ،یہ سمجھ کروہ بولا: اے موسیٰ! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، کیا تم مجھے ویسے ہی قتل کرنا چاہتے ہو جیسے تم نے کل ایک شخص کو قتل کردیا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ مصر کی سرزمین میں  زبردستی کرنے والے بن جاؤ اورتم اصلاح کرنے والوں  میں  سے نہیں  ہوناچاہتے ۔ فرعونی نے یہ بات سنی اور جا کر فرعون کو اطلاع دی کہ کل کے فرعونی مقتول کے قاتل حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں ۔ فرعون نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے قتل کا حکم دیا اور لوگ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ڈھونڈنے نکل گئے۔(1)
وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى٘-قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُ جْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ(۲۰) 
ترجمۂکنزالایمان: اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑ تا آیا کہا اے موسیٰ! بیشک دربار والے آپ کے قتل کا مشورہ کررہے ہیں  تو نکل جائیے میں  آپ کا خیر خواہ ہوں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک (مومن) شخص دوڑ تا ہواآیا ،کہا: اے موسیٰ!بیشک دربار والے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۱۸-۱۹، ۳/۴۲۸، مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۱۸-۱۹، ص۸۶۴-۸۶۵، ملتقطاً۔