Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
265 - 608
اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَاۙ-قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ ﳓ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ(۱۹)
ترجمۂکنزالایمان: تو صبح کی اس شہر میں  ڈرتے ہوئے اس انتظار میں  کہ کیا ہوتا ہے جبھی دیکھا کہ وہ جس نے کل ان سے مدد چاہی تھی فریاد کررہا ہے موسیٰ نے اس سے فرمایا بیشک تو کھلا گمراہ ہے۔ تو جب موسیٰ نے چاہا کہ اس پر گرفت کرے جو ان دونوں  کا دشمن ہے وہ بولا اے موسیٰ کیا تم مجھے ویسا ہی قتل کرنا چاہتے ہو جیسا تم نے کل ایک شخص کو قتل کردیا تم تو یہی چاہتے ہو کہ زمین میں  سخت گیر بنو اور اصلاح کرنا نہیں  چاہتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر موسیٰ نے شہر میں  ڈرتے ہوئے، انتظار میں  صبح کی تواچانک دیکھا کہ وہ جس نے کل ان سے مدد مانگی تھی فریاد کررہا ہے توموسیٰ نے اس سے فرمایا بیشک تو ضرورکھلا گمراہ ہے ۔ تو جب موسیٰ نے چاہا کہ اس (قبطی) کو پکڑلیں  جو ان دونوں  کا دشمن تھا تو وہ بولا :اے موسیٰ! کیا تم مجھے ویسا ہی قتل کرنا چاہتے ہو جیسا تم نے کل ایک شخص کو قتل کردیا تم تو یہی چاہتے ہو کہ زمین میں  زبردستی کرنے والے بن جاؤ اورتم اصلاح کرنے والوں  میں  سے نہیں  ہوناچاہتے۔
{فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآىٕفًا یَّتَرَقَّبُ: پھر موسیٰ نے شہر میں  ڈرتے ہوئے، انتظار میں  صبح کی۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ دعا مانگنے کے بعدحضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے شہر میں  ڈرتے ہوئے اور ا س انتظار میں  صبح کی کہ خدا جانے اس قبطی کے مارے جانے کا کیا نتیجہ نکلے اور اس کی قوم کے لوگ کیا کریں  ۔جب صبح ہوئی تواچانک آپ نے دیکھا کہ وہ مردجس نے کل ان سے مدد مانگی تھی،آج پھر فریاد کررہا ہے ۔ حضرت عبد الله بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ فرعون کی قوم کے لوگوں  نے فرعون کو اطلاع دی کہ بنی اسرائیل کے کسی شخص نے ہمارے ایک آدمی کو مار ڈالا ہے۔ اس پر فرعون نے کہا کہ قاتل اور گواہوں  کو تلاش کرو۔چنانچہ فرعونی گشت کرتے پھرتے تھے