{قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ: عرض کی: اے میرے رب!میں نے اپنی جان پر زیادتی کی۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ کلام عاجزی اور اِنکساری کے طور پر ہے کیونکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کوئی مَعْصِیَت سرزد نہیں ہوئی۔ یاد رہے کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام معصوم ہیں ، ان سے گناہ نہیں ہوتے اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قبطی کو مارنا در اصل ظلم دور کرنا اور مظلوم کی امداد کرنا تھا اور یہ کسی دین میں بھی گناہ نہیں ،پھر بھی اپنی طرف تقصیر کی نسبت کرنا اور استغفار چاہنا یہ الله تعالیٰ کے مُقَرَّب بندوں کا دستور ہی ہے۔(1)
قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ(۱۷)
ترجمۂکنزالایمان: عرض کی اے میرے رب جیسا تو نے مجھ پر احسان کیا تو اب ہرگز میں مجرموں کا مددگار نہ ہوں گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: عرض کی: اے میرے رب!تو نے میرے اوپر جو احسان کیا ہے اس کی قسم کہ اب ہرگز میں مجرموں کا مددگار نہ ہوں گا۔
{قَالَ رَبِّ: عرض کی: اے میرے رب!} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عرض کی :اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، جیساکہ میری تقصیر کی بخشش فرما کرتو نے میرے اوپر احسان کیا ہے تو اب مجھ پر یہ کرم بھی فرما کہ مجھے فرعون کی صحبت اور اس کے یہاں رہنے سے بھی بچا کیونکہ اس کے ہمراہ رہنے والوں میں شمار کیا جانا بھی ایک طرح کا مدد گار ہونا ہے اور میں ہرگز مجرموں کا مددگار نہ ہوں گا۔(2)
فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآىٕفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗؕ-قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ(۱۸)فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرکبیر، القصص، تحت الآیۃ: ۱۶، ۸/۵۸۵، ابو سعود، القصص، تحت الآیۃ: ۱۶، ۴/۲۲۸، قرطبی، القصص، تحت الآیۃ: ۱۶، ۷/۱۹۸، الجزء الثالث عشر، ملتقطاً۔
2…مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۸۶۴۔