Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
263 - 608
شہر میں  داخل ہوئے تو آپ نے اس میں  دو مردوں  کو لڑتے ہوئے پایا۔ ان میں  سے ایک حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے گروہ بنی اسرائیل میں سے تھا اور دوسرا ان کے دشمنوں  یعنی فرعون کی قوم قِبطیوں  میں  سے تھا ،یہ اسرائیلی پر جَبر کر رہا تھا تاکہ وہ اس پر لکڑیوں  کا انبار لاد کر فرعون کے کچن میں  لے جائے ،چنانچہ جو مرد حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے گروہ میں  سے تھا اس نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اس کے خلاف مدد مانگی جو اس کے دشمنوں  سے تھا، تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے پہلے اس قِبطی سے کہا :تو اسرائیلی پر ظلم نہ کر اور اس کو چھوڑ دے ،لیکن وہ باز نہ آیا اور بدزبانی کرنے لگا تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس کو اس ظلم سے روکنے کے لئے گھونسا مارا تووہ گھونسا کھاتے ہی مر گیا۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اسے ریت میں  دفن کر دیا اور آپ کا ارادہ اسے قتل کرنے کا نہ تھا،پھر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’اس قبطی کا اسرائیلی پر ظلم کرنا جو اس کی ہلاکت کا باعث ہوا،یہ کام شیطان کی طرف سے ہواہے اور بیشک وہ کھلا گمراہ کرنے والا دشمن ہے۔ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں  ’’ہٰذَا‘‘ سے اس قتل کی طرف اشارہ ہے جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بلا ارادہ ہوا ، یعنی قبطی کو قتل کرنے کا کام (در حقیقت ) شیطان کی طرف سے ہوا۔ (1)اس بات کی مزید وضاحت اگلی آیت کی تفسیر میں  موجود ہے۔
قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ(۱۶)
ترجمۂکنزالایمان: عرض کی اے میرے رب میں  نے اپنی جان پر زیادتی کی تو مجھے بخش دے تو رب نے اسے بخش دیا بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: موسیٰ نے عرض کی: اے میرے رب!میں  نے اپنی جان پر زیادتی کی تو تومجھے بخش دے تو الله نے اسے بخش دیا بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۱۵، ۳/۴۲۷، مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۸۶۴۔