کو لڑتے ہوئے پایا۔ ایک موسیٰ کے گروہ سے تھا اور دوسرا اس کے دشمنوں میں سے تھا تو وہ جو موسیٰ کے گروہ میں سے تھا اس نے موسیٰ سے اس کے خلاف مدد مانگی جو اس کے دشمنوں سے تھا تو موسیٰ نے اس کے گھونسا مارا تو اس کا کام تمام کردیا۔ (پھر) فرمایا: یہ شیطان کی طرف سے ہواہے۔ بیشک وہ کھلا گمراہ کرنے والا دشمن ہے۔
{ وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا: اور شہروالوں کی نیند کے وقت شہرمیں داخل ہوئے۔} آیت کے اس حصے سے متعلق یہاں دو باتیں ملاحظہ ہوں ،
(1)…حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جس شہر میں داخل ہوئے ا س کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ وہ شہر ’’مَنْف‘‘ تھا جو کہ مصر کی حدود میں واقع ہے ۔اس لفظ کی اصل مَافَہ ہے، قبطی زبان میں اس لفظ کے معنی ہیں 30۔یہ وہ پہلا شہر ہے جو حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر طوفان کاعذاب آنے کے بعد آباد ہوا۔ اس سرزمین میں مصربن حام نے اقامت کی، یہ اقامت کرنے والے کل 30 افرادتھے اس لئے اس شہر کا نام مافہ ہوا، پھر عربی زبان میں اسے ’’مَنْف‘‘ پکارا جانے لگا۔دوسرا قول یہ ہے کہ وہ شہر حابین تھا جو مصر سے دو فرسنگ (یعنی 6 میل) کے فاصلہ پر واقع تھا ۔ تیسرا قول یہ ہے کہ وہ شہر عین شمس تھا۔(1)
(2)…شہرمیں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پوشیدہ طور پر داخل ہونے کا سبب یہ تھا کہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جوان ہوئے تو آپ نے حق کا بیان اور فرعون اور فرعونیوں کی گمراہی کا رد شروع کیا اور فرعونیوں کے دین کی ممانعت فرمائی ۔ بنی اسرائیل کے لوگ آپ کی بات سنتے اور آپ کی پیروی کیا کرتے تھے۔آہستہ آہستہ اس بات کا چرچا ہوا اور فرعونیوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تلاش شرع کر دی ،اس لئے آپ جس بستی میں داخل ہوتے تو ایسے وقت داخل ہوتے جب وہاں کے لوگ غفلت میں ہوں ۔ حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ (جس دن حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام شہر میں داخل ہوئے) وہ دِن عید کا تھا اورلوگ اپنے لَہو و لَعب میں مشغول تھے۔ (یعنی غفلت سے مراد سونا نہیں بلکہ ان کا کھیل تماشے میں مشغول ہونا تھا۔)(2)
{فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ: تو اس میں دو مردوں کو لڑتے ہوئے پایا۔} یعنی جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جمل، القصص، تحت الآیۃ: ۱۵، ۶/۱۳، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۱۵، ۳/۴۲۷، ملتقطاً۔
2…مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۸۶۴، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۱۵، ۳/۴۲۷، ملتقطاً۔