Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
260 - 608
لے کہ الله تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں  جانتے اوراس سے متعلق شک میں  رہتے ہیں  ۔ 
	حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی والدہ کے پاس دودھ پینے کے زمانہ تک رہے اور اس عرصے میں  فرعون انہیں  ایک اشرفی روز دیتا رہا۔ دودھ چھوٹنے کے بعد حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ آپ کو فرعون کے پاس لے آئیں  اوراس کے بعد آپ وہاں  پرورش پاتے رہے ۔(1)
وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًاؕ-وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ(۱۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب اپنی جوانی کو پہنچا اور پورے زور پر آیا ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا اور ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں  نیکوں  کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب موسیٰ اپنی جوانی کو پہنچے اور بھرپورہوگئے تو ہم نے اسے حکمت اور علم عطا فرمایا اور ہم نیکوں  کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔
{وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى: اور جب اپنی جوانی کو پہنچے اور بھرپور ہوگئے۔} گزشتہ آیات میں  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت اوران کی غیبی حفاظت کابیان تھااب اس آیت ِمبارکہ سے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی جوانی کے کچھ احوال بیان کیے جارہے ہیں  کہ جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عمرشریف 30سال سے زیادہ ہوگئی تو الله عَزَّوَجَلَّ نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوعلم وحکمت سے نوازا۔
	یہاں  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو علم ِلَدُنی ملاتھا جواستاد کے واسطے کے بغیر آپ کو عطا ہوا ،جیسا کہ ’’اٰتَیْنٰهُ‘‘ فرمانے سے معلوم ہوا اوریہ علم آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نبوت عطا کئے جانے سے پہلے دیا گیا، اور یہ بھی یاد رہے کہ یہاں  حکم اورعلم سے مراد نبوت نہیں  کیونکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نبوت تو مَدیَن سے مصر آتے ہوئے راستہ میں  عطا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، القصص، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۳۲۷، مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۸۶۳، ملتقطاً۔