تمہارے اس بچے کی ذمہ داری لے لیں اور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہوں ؟ فرعونیوں نے یہ بات منظور کر لی ، چنانچہ آپ اپنی والدہ کو بلالائیں ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام فرعون کی گود میں تھے اور دودھ کے لئے رورہے تھے اورفرعون آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو شفقت کے ساتھ بہلارہا تھا۔ جب آپ کی والدہ تشریف لائیں اور آپ نے اُن کی خوشبو پائی تو آپ کو قرار آگیا اور آپ نے ان کا دودھ نوش فرما لیا۔فرعون نے کہا :تم اس بچے کی کیا لگتی ہو کہ اُس نے تیرے سوا کسی کے دودھ کو منہ بھی نہ لگایا؟ انہوں نے کہا :میں ایک عورت ہوں ، پاک صاف رہتی ہوں ،میرا دودھ خوشگوار ہے، جسم خوشبودار ہے، اس لئے جن بچوں کے مزاج میں نَفاست ہوتی ہے وہ اور عورتوں کا دودھ نہیں لیتے ہیں جبکہ میرا دودھ پی لیتے ہیں ۔ فرعون نے بچہ انہیں دیا اور دودھ پلانے پر انہیں مقرر کرکے فرزند کو اپنے گھرلے جانے کی اجازت دی ،چنانچہ آپ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کواپنے مکان پر لے آئیں ۔اور الله تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوا اس وقت انہیں اطمینانِ کامل ہوگیا کہ یہ فرزندِ اَرْجْمند ضرور نبی ہوں گے، الله تعالیٰ اس وعدہ کا ذکر فرماتا ہے۔(1)
فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠(۱۳)
ترجمۂکنزالایمان: تو ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف پھیرا کہ ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور غم نہ کھائے اور جان لے کہ الله کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف لوٹا دیا تا کہ ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور وہ غم نہ کھائے اور جان لے کہ الله کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
{ فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ: تو ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف لوٹا دیا۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی ماں کی طرف لوٹا دیا تا کہ بچے کوپا کر ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور وہ اپنے فرزند کی جدائی کا غم نہ کھائے اور وہ جان
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۱۲، ۳/۴۲۶، مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۸۶۳، ملتقطاً۔