{اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ: جن لوگوں کو ان کے چہروں کے بل ہانکا جائے گا۔} قیامت کے دن چہروں کے بل ہانکے جانے سے متعلق حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ آدمی روزِ قیامت تین طریقے پر اُٹھائے جائیں گے ایک گروہ سواریوں پر، ایک گروہ پیادہ پا اور ایک جماعت منہ کے بل گھسٹتی ہوئی۔ عرض کی گئی: یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ منہ کے بل کیسے چلیں گے؟ ارشاد فرمایا: ’’جس نے انہیں پاؤں پر چلایا ہے وہ اس بات پر قادر ہے کہ انہیں منہ کے بل چلائے۔(1)
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ(۳۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی اور اس کے بھائی ہارون کو وزیر کیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو وزیر بنایا۔
{وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ: اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی۔} اس رکوع میں اللہ تعالٰی نے بعض انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات اِجمالی طور پر بیان فرما کر اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دی کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کفار کی مخالفت اور سازشوں کا غم نہ کریں ، جس نے آپ کی مخالفت کی اور آپ سے دشمنی مول لی تو اسے بھی ہلاک و برباد کر دیا جائے گا جیسے آپ سے پہلی امتوں میں سے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مخالفین کوہلاک کر دیا گیا۔ (2) چنانچہ فرمایا گیا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے انہیں جھٹلایا گیا اور انہیں جو معجزات عطا کئے ان کا انکار کیا گیا،بے شک ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تورات عطا فرمائی اور اس کے بھائی حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ذریعے ہم نے ا س کا بازو مضبوط کیا لیکن اس کے باوجود ان کی مخالفت کی گئی۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ بنی اسرائیل، ۵/۹۶، الحدیث: ۳۱۵۳۔
2…صاوی، الفرقان، تحت الآیۃ: ۳۵، ۴/۱۴۳۶، ملخصاً۔
3…تفسیرکبیر، الفرقان، تحت الآیۃ: ۳۵، ۸/۴۵۸۔