ارشاد ہوا: ’’وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔(1)
وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ(۳۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ کوئی کہاوت تمہارے پاس نہ لائیں گے مگر ہم حق اور اس سے بہتر بیان لے آئیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ آپ کے پاس کوئی بھی مثال لے آئیں ، ہم آپ کے پاس حق اور بہتر بیان لے آئیں گے۔
{وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ: اور وہ آپ کے پاس کوئی مثال نہ لائیں گے۔} آیت کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہ مشرکین آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دین کے خلاف یا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت پر جو بھی اعتراض قائم کریں گے ہم ا س کا انتہائی نفیس جواب دیں گے۔(2)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضورا قدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بارگاہِ الٰہی میں وہ قُرب حاصل ہے کہ جب اعتراض حضور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ہو تو ا س کا جواب اللہ تعالٰی دیتا ہے۔
اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَۙ-اُولٰٓىٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠(۳۴)
ترجمۂکنزالایمان: وہ جو جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے اپنے منہ کے بل ان کا ٹھکانا سب سے بُرا اور وہ سب سے گمراہ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ جنہیں ان کے چہروں کے بل جہنم کی طرف ہانکا جائے گا ان کا ٹھکانہ سب سے بدتر اور وہ سب سے زیادہ گم راہ ہیں ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابوسعود، الفرقان، تحت الآیۃ: ۳۲، ۴/۱۳۵۔
2…صاوی، الفرقان، تحت الآیۃ: ۳۳، ۴/۱۴۳۶۔