ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس کی ماں نے اس کی بہن سے کہا: اس کے پیچھے چلی جا تو وہ بہن اسے دور سے دیکھتی رہی اور ان (فرعونیوں ) کو خبر نہ تھی۔
{وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ: اور اس کی ماں نے اس کی بہن سے کہا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بہن مریم سے کہا: تم حال معلوم کرنے کے لئے اس کے پیچھے چلی جاؤ ،چنانچہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بہن آپ کے پیچھے چلتی رہی اور آپ کو دور سے دیکھتی رہی اور ان فرعونیوں کو اس بات کی خبر نہ تھی کہ یہ اس بچے کی بہن ہے اور اس کی نگرانی کررہی ہے۔(1)
وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ(۱۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے پہلے ہی سب دائیاں اس پر حرام کردی تھیں تو بولی کیا میں تمہیں بتادوں ایسے گھر والے کہ تمہارے اس بچہ کو پال دیں اور وہ اس کے خیر خواہ ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے پہلے ہی سب دائیاں اس پر حرام کردی تھیں تو موسیٰ کی بہن نے کہا: کیا میں تمہیں ایسے گھر والے بتادوں جو تمہارے اس بچہ کی ذمہ داری لے لیں اور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہوں ؟
{وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ: اور ہم نے پہلے ہی سب دائیاں اس پر حرام کردی تھیں ۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے پہلے ہی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو منع کر دیا تھا کہ وہ اپنی والدہ کے علاوہ کسی اور کا دودھ نوش نہ فرمائیں ۔ چنانچہ جس قدر دائیاں حاضر کی گئیں ان میں سے کسی کی چھاتی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے منہ میں نہ لی، اس سے ان لوگوں کو بہت فکر ہوئی کہ کہیں سے کوئی ایسی دائی مُیَسَّر آئے جس کا دودھ آپ پی لیں ۔ دائیوں کے ساتھ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ہمشیرہ بھی یہ حال دیکھنے چلی گئی تھیں اور صورتِ حال دیکھ کر انہوں نے کہا :کیا میں تمہیں ایسے گھر والے بتادوں جو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۱۱، ۳/۴۲۶۔