Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
256 - 608
اٹھانے کا انجام و نتیجہ یہ بنا۔ عربی زبان میں  آیت میں  مذکور ’’لام‘‘ کو ’’لامِ عاقِبَت‘‘ کہتے ہیں ۔) فرعون ،اس کا وزیر ہامان اور ان کے لشکر نافرمان تھے تو الله تعالیٰ نے انہیں  یہ سزا دی کہ انہیں  ہلاک کرنے والے دشمن کی انہی سے پر ورش کرائی۔(1)
وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَؕ-لَا تَقْتُلُوْهُ ﳓ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور فرعون کی بی بی نے کہا یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں  کی ٹھنڈک ہے اسے قتل نہ کرو شاید یہ ہمیں  نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں  اور وہ بے خبر تھے ۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور فرعون کی بیوی نے کہا: یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں  کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو شاید یہ ہمیں  نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں  اور وہ بے خبرتھے۔ 
{وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ: اور فرعون کی بیوی نے فرمایا۔} جب فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں  کی طرف سے ورغلائے جانے کی بنا پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو فرعون کی بیوی نے اس سے کہا: یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں  کی ٹھنڈک ہے،تم اسے قتل نہ کرو، شاید یہ ہمیں  نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں کیونکہ یہ اسی قابل ہے ۔ فرعون کی بیوی آسیہ بہت نیک خاتون تھیں ، انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نسل سے تھیں ،غریبوں  اور مسکینوں  پر رحم و کرم کرتی تھیں ، انہوں  نے فرعون سے یہ بھی کہا کہ یہ بچہ سال بھر سے زیادہ عمر کا معلوم ہوتا ہے اور تو نے اس سال کے اندر پیدا ہونے والے بچوں  کے قتل کا حکم دیا ہے ،اس کے علاوہ معلوم نہیں  یہ بچہ دریا میں  کس سرزمین سے یہاں  آیا ہے اور تجھے جس بچے سے اندیشہ ہے وہ اسی ملک کے بنی اسرائیل سے بتایا گیا ہے، لہٰذا تم اسے قتل نہ کرو۔ آسیہ کی یہ بات ان لوگوں  نے مان لی حالانکہ وہ اس انجام سے بے خبرتھے جو ان کا ہونے والا تھا ۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، القصص، تحت الآیۃ: ۸، ص۳۲۶، مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۸، ص۸۶۲، ملتقطاً۔
2…جلالین، القصص، تحت الآیۃ: ۹، ص۳۲۶، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۹، ۳/۴۲۵، ملتقطاً۔