Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
255 - 608
 الله تعالیٰ کے اولیاء کو بھی غیب کا علم عطا ہوتا ہے:
	 اس سے معلو م ہوا کہ حضرت یو حانذ رَضِیَ الله تَعَالٰی عَنْہَا کو حسب ِذَیل باتیں  بتائی گئی تھیں ،
(1)… حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ابھی وفات نہ پائیں  گے ۔
 (2)…حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پرورش وہ خود کریں  گی۔
(3)…حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام رسول بنائے جائیں  گے۔ 
	یہ سب مستقبل کی خبریں  غیب کے علوم میں  سے ہیں  اوراس سے معلوم ہوا کہ الله تعالیٰ کے اولیاء کو بھی غیب کا علم عطا ہوتا ہے۔
فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًاؕ-اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـٕیْنَ(۸)
ترجمۂکنزالایمان: تو اسے اٹھالیا فرعون کے گھر والوں  نے کہ وہ ان کا دشمن اور ان پر غم ہو بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو اسے فرعون کے گھر والوں  نے اٹھالیا تاکہ وہ ان کیلئے دشمن اور غم بنے، بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے۔ 
{فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ: تو اسے فرعون کے گھر والوں  نے اٹھالیا۔} یعنی جس رات حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ نے آپ کو دریا میں  ڈالا اس کی صبح کو فرعون کے گھر والوں  نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے صندوق کو دریا ئے نیل سے اپنے محل میں  آنے والی نہر سے اٹھا لیا اور اس صندوق کو فرعون کے سامنے رکھا ،جب اسے کھولا گیا تو اس میں  سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام برآمد ہوئے جو اپنے انگوٹھے سے دودھ چوس رہے تھے ۔فرعون کے گھر والوں  نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اٹھایا۔ (اٹھانے کا مقصد یہ نہیں  تھا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ان کیلئے دشمن اور غم کا باعث بنیں  لیکن اِس