سورۂ قَصَص
سورۂ قصص کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ قصص چار آیتوں کے علاوہ مکیہ ہے اور وہ چار آیتیں ’’اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ‘‘ سے شروع ہو کر ’’لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ‘‘ پر ختم ہوتی ہیں اور اس سورت میں ایک آیت ’’اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ‘‘ ایسی ہے جو مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے درمیان نازل ہوئی۔(1)
آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:
اس سورت میں 9رکوع،88آیتیں ،441کلمے اور5800حروف ہیں ۔(2)
’’قصص ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
قصص کا معنی ہے واقعات اور قصے، اور چونکہ اس سورت میں مختلف قصے جیسے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا قصہ اور قارون کاقصہ وغیرہابیان کیے گئے ہیں ، اسی مناسبت سے اس سورت کانام ’’سورۃ القصص ‘‘ رکھا گیاہے ۔
سورۂ قصص کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں بیان کئے گئے واقعات کے ضمن میں اسلام کے بنیادی عقائد جیسے توحید و رسالت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو ثابت کیا گیا ہے اور ا س سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں ۔
(1)…حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت سے لے کر تورات عطا کئے جانے تک کے تمام واقعات تفصیل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں اور ان واقعات کی ابتداء فرعون کے ان مَظالِم سے کی گئی جو وہ بنی اسرائیل پر ڈھاتا تھا،پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت اور فرعون کے گھر میں ان کی پرورش کا واقعہ بیان کیا گیا،پھر قبطی کو قتل کرنے، مصر سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بغوی، سورۃ القصص،۳/۳۷۲۔
2…خازن، القصص، تفسیر سورۃ القصص، ۳/۴۲۳۔