Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
247 - 608
ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ(۹۲) وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَاؕ-وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠(۹۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور یہ کہ قرآن کی تلاوت کروں  تو جس نے راہ پائی اس نے اپنے بھلے کو راہ پائی اور جو بہکے تو فرما دو کہ میں  تو یہی ڈر سنانے والا ہوں ۔اور فرماؤ کہ سب خوبیاں  الله کے لیے ہیں عنقریب وہ تمہیں  اپنی نشانیاں  دکھائے گا تو انہیں  پہچان لو گے اور اے محبوب تمہارا رب غافل نہیں  اے لوگو تمہارے اعمال سے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ کہ میں  قرآن کی تلاوت کروں تو جس نے ہدایت پائی تواس نے اپنی ذات کیلئے ہی ہدایت پائی اور جو گمراہ ہو تو تم فرمادو کہ میں  توصرف ڈر انے والوں  میں  سے ہوں ۔ اور تم فرماؤ:سب خوبیاں  الله کے لیے ہیں ، عنقریب وہ تمہیں  اپنی نشانیاں  دکھائے گا تو تم انہیں  پہچان لو گے اور (اے حبیب!) تمہارا رب، (اے لوگو!) تمہارے اعمال سے غافل نہیں  ہے۔ 
{وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ: اور یہ کہ میں  قرآن کی تلاوت کروں ۔} یعنی اور مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں  مخلوقِ خدا کو ایمان کی دعوت دینے کے لئے قرآن کی تلاوت کرتا رہوں  تاکہ اس کے حقائق مجھ پر ظاہر ہوتے رہیں  تو جس نے رسول کریم صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کر کے ہدایت پائی تواس نے اپنی ذات کیلئے ہی ہدایت پائی کیونکہ اس کا نفع اور ثواب وہی پائے گا اور جو گمراہ ہو اور الله تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت نہ کرے اور ایمان نہ لائے تو تم فرمادو کہ میں  توصرف الله تعالیٰ کے عذاب سے ڈر انے والوں  میں  سے ہوں  اورمیری ذمہ داری الله تعالیٰ کا پیغام پہنچا دینا تھا وہ میں  نے انجام دے دی۔(1)
{سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ: عنقریب وہ تمہیں  اپنی نشانیاں  دکھائے گا۔} ان نشانیوں  سے مراد چاند کا دو ٹکڑے ہونا وغیرہ معجزات اور وہ سزائیں  ہیں جو دنیا میں  آئیں  جیسا کہ بدرمیں کفار کا قتل ہونا، قید ہونا اور فرشتوں  کا انہیں  مارنا۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، النمل، تحت الآیۃ: ۹۲، ص۳۲۵، خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۹۲، ۳/۴۲۲، روح البیان، النمل، تحت الآیۃ: ۹۲، ۶/۳۷۸، ملتقطاً۔
2…مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۹۳، ص۸۵۹، جلالین، النمل، تحت الآیۃ: ۹۳، ص۳۲۵، ملتقطاً۔