گے وہ اوندھے منہ آگ میں ڈالے جائیں گے اور جہنم کے خازن اُن سے کہیں گے’’ تمہیں تمہارے شرک اور گناہوں ہی کا بدلہ دیا جائے گا۔(1)
اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ٘-وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ(۹۱)
ترجمۂکنزالایمان: مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ پوجوں اس شہر کے رب کو جس نے اسے حرمت والا کیا ہے اور سب کچھ اسی کا ہے اور مجھے حکم ہوا ہے کہ فرمانبرداروں میں ہوں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر (مکہ) کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرمت والا بنایا ہے اورہر شے اسی کی ملکیت ہے اور مجھے حکم ہوا ہے کہ فرمانبرداروں میں سے رہوں ۔
{اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ: مجھے تو یہی حکم ہوا ہے۔} قیامت کے ابتدائی واقعات اور قیامت قائم ہونے کے بعد کے چند اَحوال بیان کرنے کے بعد الله تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا کہ آپ فرمادیجئے : مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر مکہ کے رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کروں اور اپنی عبادت اس رب عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ خاص کروں جس نے اسے حرمت والا بنایا ہے کہ وہاں نہ کسی انسان کا خون بہایا جائے، نہ کوئی شکار مارا جائے اورنہ وہاں کی گھاس کاٹی جائے اور ہر شے حقیقی طور پر اسی کی ملکیت ہے اور اس ملکیت میں ا س کا کوئی شریک نہیں اور مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ فرمانبرداروں میں سے رہوں ۔ آیت میں مکہ مکرمہ کا ذکر اس لئے ہواہے کہ وہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا وطن اور وحی نازل ہونے کی جگہ ہے۔(2)
وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَۚ-فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۹۰، ۳/۴۲۲
2…خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۹۱، ۳/۴۲۲۔