جیسا کہ بادل وغیرہ بڑے جسم چلتے توہیں لیکن حرکت کرتے ہوئے معلوم نہیں ہوتے ،یہاں تک کہ وہ پہاڑ زمین پر گر کر اس کے برابر ہوجائیں گے، پھر ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائیں گے۔(1)
مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَاۚ-وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَىٕذٍ اٰمِنُوْنَ(۸۹)وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِؕ-هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۹۰)
ترجمۂکنزالایمان: جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے ۱ور ان کو اس دن کی گھبراہٹ سے امان ہے۔ اور جو بدی لائے تو ان کے منہ اوندھائے گئے آ گ میں تمہیں کیا بدلہ ملے گا مگر اسی کا جو کرتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے اور وہ اس دن کی گھبراہٹ سے امن و چین میں ہوں گے۔ اور جو برائی لائے گاتو ان کے چہرے آگ میں الٹے کردیے جائیں گے۔ (اے لوگو!) تمہیں تمہارے اعمال ہی کا بدلہ دیا جائے گا۔
{مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ: جو نیکی لائے۔} نیکی سے مراد کلمۂ تَوحید کی شہادت ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے مراد عمل میں اخلاص ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد ہر وہ نیکی ہے جو الله تعالیٰ کے لئے ہو۔آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر صلہ یعنی جنت اور ثواب ہے اور وہ نیک لوگ قیامت کے دن کی اس گھبراہٹ سے امن و چین میں ہوں گے جو عذاب کے خوف کی وجہ سے ہوگی۔یاد رہے کہ یہاں جس گھبراہٹ کا ذکر ہے وہ اس گھبراہٹ کے علاوہ ہے جس کا اوپر کی آیت میں ذکر ہوا ہے۔(2)
{وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ: اور جو برائی لائے گا۔} یہاں برائی سے مراد شرک ہے ۔آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شرک لائیں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۸۸، ص۸۵۸، خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳/۴۲۱، ملتقطاً۔
2…خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۸۹، ۳/۴۲۲، مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۸۹، ص۸۵۸، ملتقطاً۔